آپ بھی کہانی تخلیق کریں اور جیتیں ہزاروں کے نقد انعامات

Tarzan Or Heibat Nak Maghrmach - Digital Kahani


ٹارزن اور ہیبت ناک مگرمچھ
شیر کی خوفناک دھاڑ سنتے ہی ٹارزن تیزی سے پلٹا۔ اسی لمحے اس کے عقب میں موجود بڑی سی جھاڑی کے پیچھے سے ایک خوفناک اور طاقتور شیر نے اس پر حملہ کردیا۔ ٹارزن انتہائی پھرتی سے اچھل کر ایک طرف کو ہٹا اور شیر اپنے ہی زور میں آگے بھاگتا چلا گیا۔
ٹارزن بال بال بچ گیا تھا ورنہ جس طرح اچانک شیر نے اس پر حملہ کیا تھا وہ یقینا اس کے سینے پر اپنا پنجہ مار کر اسے شدید زخمی کرسکتا تھا۔ شیر آگے کی طرف دوڑتا ہوا تیزی سے مڑا اور ایک بار پھر ٹارزن کی طرف بڑھا لیکن اب ٹارزن اس کے حملے کے لئے پوری طرح تیار تھا لیکن اس بار شیر نے مڑتے ہی جیسے ہی ٹارزن کو سامنے کھڑے دیکھا اس نے حملہ کرنے  کی بجائے اپنا سرزمین پر رکھ دیا تو ٹارزن تیزی سے آگے بڑھا اور اس نے شیر کے سر پر ہاتھ رکھ دیا یہ اس بات کا اعلان تھا کہ ٹارزن نے شیر کو معاف کردیا ہے۔ ٹارزن نے دیکھا کہ شیر خاصا زخمی تھا۔ اس کی گردن اور سر پر بڑے بڑے زخم تھے۔
مجھے معافی دے دو سردار ٹارزن ۔ میں زخمی ہونے کی وجہ سے غصے سے پاگل ہورہا تھا میں نے تمہیں پہچانا نہیں تھا۔ شیر نے ٹارزن سے مخاطب ہوکر کہا۔


میں نے تمہارے سر پر ہاتھ رکھ کر تمہیں معافی دے دی ہے لیکن یہ تمیں کس نے زخمی کیا ہے۔ کیا تمہاری کسی دوسرے شیر سے لڑائی ہوئی ہے۔ ٹارزن نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
نہیں سردار ۔ یہ زخم مجھے ایک بہت بڑے خوفناک اور ہیبت ناک مگرمچھ کی وجہ سے آئے ہیں۔ شیر نے جواب دیتے ہوئے کہا۔
ٹھہرو ۔ تمہاری بات تفصیل سے بعد میں سنو گا ۔ پہلے میں تمہارے زخموں کا علاج کردوں ورنہ تمہارے جسم میں زہر پھیل جائے گااور تم ہلاک ہو جاؤ گے۔ ٹارزن نے کہا اور اس کے ساتھ ہی اس نے اونچی آواز میں منکو کو پکارنا شروع کردیا کیونکہ منکو اس سے علیحدہ ہوکر جنگل میں گھومتا پھررہا تھا۔دو تین آوازیں دینے کے بعد منکو دوڑتا ہوا وہاں پہنچ گیا۔
کیا ہوا سردار۔ منکو نے قریب آکر غور سے زخمی شیر کو دیکھتے ہوئے کہا۔
شیر کو کسی بڑے مگرمچھ نے زخمی کردیا ہے اور مگرمچھ کے دانتوں میں زہر ہوتا ہے اس لئے شیر کے زخموں کا فوری علاج ضروری ہے ۔ تم ایسا کرو کہ جا کر سرخ نوکیلے پتوں والی جھاڑیاں توڑ کر لے آؤ تاکہ شیر کے زخموں کا علاج ہوسکے۔ ٹارزن نے منکو سے کہا اور منکو سر ہلاتا ہوا واپس دوڑا اور جھاڑیوں میں غائب ہوگیا۔ شیر اب زمین پر لیٹا ہوا تھا اس کی آنکھیں بند ہونے لگ گئی تھیں اور وہ آہستہ آہستہ کراہ رہا تھا۔
فکر مت کرو ۔ ابھی تمہارا علاج ہوجائے گا اور تم صحت یاب ہوجاؤ گے ۔ ٹارزن نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا اور پھر کچھ دیر بعد منکو واپس آیا تو اس نے سرخ نوکیلے پتوں والی جھاڑی ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی ٹارزن نے اس سے جھاڑی لی اور پھر اس کے پتے توڑ توڑ کر اس انہیں اپنے ہاتھوں میں مسلا تو سرخ رنگ کا لیس دار مادہ ان پتوں میں سے نکلنے لگا۔






ٹارزن نے یہ مادہ شیر کے زخموں پر لگانا شروع کردیا جیسے جیسے جھاڑی کا رس زخموں پر پڑ رہا تھا زخم ٹھیک ہوتے جارہے تھے اور پھر دیکھتے دیکھتے سارے زخم بالکل ٹھیک ہوگئے پھر ٹارزن نے شیر کا منہ کھولا اور جھاڑی کا رس اس کے منہ میں ڈالنا شروع کردیا کافی سارا رس جب شیر کے حلق سے نیچے اتر گیا تو ٹارزن پوری طرح مطمئن ہوگیا ۔ تھوڑی دیر بعد شیر کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا اب وہ پوری طرح صحت یاب اور چاق و چوبند نظر آرہا تھا۔
بے حد شکریہ سردار۔ تم نے میری جان بچا لی ہے میں ہمیشہ تمہارا احسان مند رہوں گا۔ شیر نے ٹارزن سے مخاطب ہوکر کہا۔


اس میں احسان کی کوئی بات نہیں میں جنگل کا سردار ہوں اور جنگل میں رہنے والے تمام جانوروں اور آدمیوں کی حفاظت اور دیکھ بھال میری ذمہ داری ہے لیکن اب تم مجھے تفصیل سے بتاؤ کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا اور کس نے تمہیں زخمی کیا ہے۔ ٹارزن نے جواب دیتے ہوئے کہا۔
سردار میں کالے جنگل کی پہاڑیوں میں گھومتا پھر ہرا تھا کہ مجھے پیاس لگ گئی اور میں پانی پینے کے لئے اس جنگل میں موجود بڑی جھیل کے کنارے پہنچا ابھی میں نے سر جھکاکر پانی پینا شروع ہی کیا تھا کہ اچانک جھیل میں سے ایک بہت بڑا اور ہیبت ناک مگرمچھ نمودار ہوا جس کا جسم دس ہاتھیوں سے بھی بڑا تھا ۔ اس نے اپنا خوفناک منہ کھول کر مجھ پر حملہ کردیا ۔ میں نے پیچھے ہٹنا چاہا لیکن میرا سر گردن تک اس کے جبڑوں میں پھنس گیا ۔ وہ مجھے گھسیٹ کر پانی کے اندر لے جانا چاہتا تھا لیکن میں نے پوری طاقت لگا دی اور اپنا ایک پنجہ اس کے جسم پر زور سے مارا تو اس کا منہ ذرا سا کھلا اور میرا سر باہر آگیا بس میں نے وہاں سے بھاگنا شروع کردیا ۔ بھاگتے بھاگتے میں یہاں پہنچا تو میں نے تمہیں اجنبی سمجھ کر تم پر حملہ کردیا بس یہ ہے اصل بات۔ شیر نے پوری تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
لیکن آج سے پہلے تو کبھی کسی مگرمچھ نے کسی شیر پر حملہ نہیں کیا ۔ یہ کس قسم کا مگرمچھ ہےے جس نے تم پر حملہ کردیا۔ ٹارزن نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔
یہی بات تو میری سمجھ میں نہیں آئی سردار ۔ میں تو اس لئے مطمئن تھا کہ یہ مجھ پر حملہ نہیں کرے گا لیکن اس نے اچانک مجھ پر حملہ کردیا مجھے تو یوں لگتا تھا کہ وہ سالم ہی مجھے نگلنا چاہتا تھا یہ تو میری خوش قسمتی تھی کہ میں اس سے بچ کر نکل آیا ۔ شیر نے جواب دیتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ہے ۔ تم جاؤ۔ میں خود جاکر اس مگرمچھ کو دیکھتا ہوں ۔ ٹارزن نے شیر سے کہا اور شیر اسے سلام کرکے اور ایک بار پھر اس کا شکریہ ادا کرکے دوڑتا ہوا آگے بڑھ گیا۔






سردار ۔ یہ تو واقعی انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ کوئی مگرمچھ کسی شیر پر حملہ کردے ۔ منکو نے ٹارزن سے مخاطب ہو کر کہا۔


ہاں۔ لیکن ایسا ہوا ہے ۔ ٹارزن نے جواب دیا۔
سردار ۔ کہیں یہ شیر غلط بیانی تو نہیں کررہا ۔ منکو نے کہا۔
نہیں ۔ میں نے زخموں کو اچھی طرح دیکھا ہے ، یہ واقعی مگرمچھ کے دانتوں کے زخم ہیں ۔ ٹارزن نے جواب دیا تو منکو نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔
آؤ ۔ تم میرے کاندھے پر بیٹھ جاؤ تاکہ ہم اکھٹے ہی اس کالے جنگل کی جھیل تک پہنچ سکیں ۔ ٹارزن نے منکو سے کہا اور منکو نے چھلانگ لگائی اور ٹارزن کے کاندھے پر بیٹھ گیا ۔ ٹارزن آگے بڑھا اور پھر وہ درختوں کی لٹکتی ہوئی شاخوں کو پکر کر جھولتا ہوا تیزی سے آگے برھنے لگا کچھ دیر بعد ہی وہ کالے جنگل میں واقع اس جھیل تل پہنچ گیا جس کے بارے میں شیر نے بتایا تھا ۔ یہاں پہنچ کر منکو اس کے کاندھے سے اتر گیا ، ٹارزن ابھی جھیل کے کنارے پر کھڑا جھیل کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک جھیل کے پانی میں ہلچل سی پیدا ہوئی اور اس کے ساتھ ہی ایک ہیبت ناک مگرمچھ نے اچانک اچھل کر تارزن پر حملہ کردیا۔ اس کا حملہ اس قدر اچانک اور تیز تھا کہ ٹارزن کو اس سے بچنے کے لئے پوری قوت سے چھلانگ لگانی پڑی اور بڑی مشکل سے وہ اس خوفناک اور دیو ہیکل مگرمچھ کے خوفناک حملہ سے اپنے آپ کو بچا سکا۔ منکو بھاگ کر ایک قریبی درخت کی اوٹ میں ہوگیا تھا۔ مگرمچھ حملہ ناکام ہوتے ہی تیزی سے واپس پانی میں غائب ہوگیا۔
یہ تو واقعی انتہائی خوفناک اور ہیبت ناک مگرمچھ ہے  اور یہ پہلے کبھی اس علاقے میں نظر نہیں آیا ۔ شائد سمندر کے راستے اس جھیل تک پہنچا ہے ۔ ٹارزن نے  اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے کہا اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے زیر جامہ سے خنجر نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا اور اسی درخت کے قریب آکر کھڑا ہوگیا جس کی اوٹ میں منکو چھپا ہوا تھا۔
سردار خیال رکھنا ۔ یہ خوفناک مگرمچھ پھر حملہ کرے گا ۔ منکو نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔
فکر مت کرو۔ اب میں پوری طرح تیار ہوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ مگرمچھ کی سب سے کمزور جگہ کونسی ہوتی ہے ۔ ٹارزن نے کہا اور ابھی اس کا فقرہ ختم ہی ہوا تھا کہ اچانک پانی میں دوبارہ ہلچل پیدا ہوئی اور مگرمچھ نے ایک بار پھر اچھل کر ٹارزن پر حملہ کردیا لیکن اس بار ٹارزن پوری طرح تیار تھا۔ اس نے اپنا ایک بازو اور ایک بازو اور ایک ٹانگ موڑی اور اپنے پر حملہ آور مگرمچھ کے نچلے جبڑے پر بازو رکھ کر اس نے پوری قوت سے اپنے آپ کو آگے کی طرف دھکیلا اس یہ ہو کہ خوفناک مگرمچھ کا جبڑا اوپر کو اٹھتا چلا گیا۔
ٹارزن نے واقعی اپنے جسم کی پوری قوت صرف کردی تھی کہ اس قدر خوفناک مگرمچھ کو اس نے صرف ایک بازو پر اٹھائے رکھا اس کے ساتھ ہی ٹارزن نے خنجر کی مدد سے مگرمچھ کے نچلے جبڑے کو اس کی گردن تک چیر ڈالا اور یکلخت اچھل کر ایک طرف جاگرا۔
مگرمچھ اس کے نیچے سے نکل جانے اور زخم کی وجہ سے ایک دھماکے سے نیچے زمین پر گرا تو درخت کی ایک شاخ اس کے زخم کے اندر گھس گئی اسی لمحے ٹارزن نے اس پر چھلانگ لگا دی اس نے دونوں پیر اس کے اوپر والے جبڑے کے دونوں طرف جمائے اور پھر خنجر کی مدد سے اس کا اوپر والا جبڑا اس کی گردن تک چیر ڈالا لیکن اسی لمحے مگرمچھ نے اپنا جبڑا ایک جھٹکے سے کھولا تو ٹارزن جھٹکا لگتے ہی اچھل کر پانی کے اندر جاگرا۔ اس کے پانی کے اندر گرتے ہی مگرمچھ تیزی سے گھوما اور اس نے پانی میں گرتے ہوئے ٹارزن پر حملہ کردیا لیکن ٹارزن نے تیزی سے پانی میں غوطہ لگایا اور پھر اس سے پہلے کہ مگرمچھ اسے اپنے زخمی جبڑے میں پکڑتا۔






 ٹارزن اس کے بھاری بھرکم جسم کے نیچے سے ہوتا ہوا اس کی دم تک تیرتا چلا گیا لیکن اس کے ساتھ ہی اس کا خنجر والا ہاتھ بھی اپنا کام کرتا گیا اور تیز دھار خنجر نے مگرمچھ کے جسم کے نچلے حصے کو گردن سے لے کر اس کی دم تک کاٹ کر رکھ دیا تھا۔ چونکہ مگرمچھ کے جسم کا نچلا حصہ انتہائی کمزور ہوتا ہے اس لئے خنجر نے اسے کاٹ کر رکھ دیا تھا اور ایسا صرف اس لئے ممکن ہوسکا تھا کہ ٹارزن کو پانی کے نیچے پہنچنے کا موقع مل گیا تھا ۔ مگرمچھ نے اپنی دم ٹارزن کو مارنے کی کوشش کی لیکن ٹارزن نے اپنی بے پناہ پھرتی کی وجہ سے اس کا ہر وار ناکام کردیا اور دوسرے لمحے وہ تیزی سے تیرتا ہوا کنارے پر پہنچا اور اچھل کر پانی سے باہر آگیا۔
کیا ہوا سردار۔ شکر ہے آپ بچ کر آگئے ورنہ میں تو فکر مند ہوگیا تھا۔ کنارے پر موجود منکو نے خوش ہوئے کہا۔


میں نے اس کے جسم کو کاٹ دیا ہے اب مگرمچھ ہلاک ہوجائے گا۔ ٹارزن نے کہا۔
اس کی نظریں پانی پر جمی ہوئی تھیں جہاں تیز ہلچل ہورہی تھی ظاہر ہے خوفناک مگرمچھ پانی میں تڑپ رہا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کا جسم پانی کے اوپر تیرنے لگا۔
وہ ہلاک ہوچکا تھا اس کا جسم کٹ گیا تھا اور وہ سانس نہ لے سکتا تھا ٹارزن نے بیلوں کی مدد سے بڑی سی رسی بنائی اور پھر پانی میں اتر کر اس نے یہ رسی مردہ مگرمچھ کے جبڑے میں باندھی اور اس کے بعد پوری قوت سے اسے کھینچ کر اس دیو ہیکل مگرمچھ کو پانی پانی سے باہر نکالا اور زمین پر ڈال دیا۔
منکو اس قدرخوفناک مگرمچھ کو مردہ دیکھ کر خوشی سے ناچنے لگا۔ ٹارزن بھی خوش تھا کہ اس نے اس ہیبت ناک مگرمچھ کو ہلاک کردیا ہے ورنہ نجانے یہ کتنے جانوروں کو کھا جاتا بلکہ یہاں آنے والے انسان بھی اس کے حملوں سے نہ بچ سکتے۔ چنانچہ اس نے بے اختیار فاتحانہ نعرہ مارا اور اس کے نعرے سے پورا جنگل گونج اٹھا۔

ختم شد

Post a Comment

0 Comments