قالوایموسی اماان تلقی واما
ان نکون نحن الملقین قال القوافلما القواسحروااعین الناس واسترھبوھم وجاء و بسحرعظیم واوحینآ الی موسی ان القی
عصاک فاذاھی تلقف مایافکون
انہوں
نے کہا اے مو سی یا تو تُو
پہلے پھینک یا ہم پہلے پھینکنے والے بنیں۔اس نے کہا تم پھینکو۔پس جب انہوں نے
پھینکا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور انہیں سخت ڈرا دیااور وہ ایک بہت
بڑا شعبدہ لائے۔اور ہم نے موسی کی طرف وحی کی کہ تو اپنا سونٹا پھینک۔پس اچانک وہ
اس جھوٹ کو نگلنے لگا جو وہ گھڑرہے تھے۔ (الاعراف
116 تا 118 )
کہتے ہیں کہ ”چیز کی سمجھ
آجائے تو سائنس نہ آئے تو جادو“ یہی حال اس علم کے ساتھ ہے۔
ہپناٹزم یا علم توجہ
یہاں قرآن کریم ایک ایسے
واقعہ کا ذکر فرماتا ہے جس میں فر عون کے جادوگروں کو ان رسیوں پر نہیں بلکہ
تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کرتے بیان کیا گیا ہے ۔ یہ دراصل ہپناسس کے عمل
کی وضاحت ہے جو قانون قدرت کے مخالف نہیں،مسمریزم کی اس شعبدہ بازی اور جادوگروں
کے سحر کو پارہ پارہ کرنے کیلئے اللہ تعالی نے حضرت موسی کے ذریعے اپنی قدرت کا جلوہ دکھایا۔
یاد رہے کہ قرآن کریم یہ
دعویٰ کرتا ہے کہ عصائے موسیٰ نے رسیوں کو سچ سچ نگلا نہیں تھا بلکہ ساحروں کے اس
اثر کو توڑا تھا جس کے نتیجے میں رسیاں سانپ دکھائی دے رہی تھیں۔
یہی واقعہ ایک اور سورۃ
میں مندرجہ ذیل طریق پر بیان ہواجس سے بات مزید واضح ہو جاتی ہے۔
اس نے کہا اسے پھینک دے
اے موسیٰ
اس نے کہا بلکہ تم ڈالو
پس اچانک ان کے جادو کی وجہ سے اسے خیال دلایا گیا کہ ان کی رسیاں اور ان کی
سونٹیاں دوڑ رہی ہیں۔
تو موسیٰ نے اپنے جی میں
خوف محسوس کیا۔ہم نے کہا مت ڈریقینا تو ہی غالب آنے والا ہے۔
(طہ : 67 تا 69 )
قرآن کریم کے اس بیان کے مطابق حضرت موسی بھی جادوگروں کی نفسیاتی
قوتوں سے متاثر ہو گئے تھے اس سے ثابت ہوا کہ جب حضرت موسی نے اپنا عصا پھینکا تو وہ محض اپنی ذہنی قوت
کے بل بوتے پرساحروں کا سحر نہ توڑ سکتے تھے نفسیاتی اعتبار سے بھی ذہن پر غالب
آنے والے ہپناٹزم کے حملہ کو توڑ دینا نا ممکن ہے گویا ساحروں کے حملہ کا توڑ حضرت
موسی نے بالارداہ نہیں کیا اس
تناظر میں یہ واقعہ ایک معجزہ کے طور پر سامنے آتا ہے۔ورنہ مضبوط ترین قوت ارادی
کا مالک بھی ساحروں کی ان کوششوں سے شکست کھا سکتا تھا۔
ہپناٹزم ایک علمی سا ئنسی
حقیقت ہے ماہرین نفسیات اور ڈاکٹروں کا منظور شدہ تحقیق شدہ اور تجربہ کا حامل علم
ہے یہ جادو نہیں بلکہ یہ صرف یکسو خیالی سے کی گئی دریافت کی وسعت کا کمال ہے جو
بے حد طاقتور ہونے کے باوجود بے حد آسان بھی ہے کوئی بھی شخص معمولی ریاضت سے
تھوڑے وقت میں اس علم کو حاصل کر سکتا ہے۔یہ ایک ایسا علم ہے جس کا تعلق انسان کے
شعور اور لا شعورکی لابدی قوتوں کا مظہر ہے۔ اس میں شعور اور لاشعور اور مابعداز
شعور کی آمادگی اور طاقت ہی کو اہمیت حاصل ہے۔علم ہپناٹزم کا آغاز انسانی تحقیق کے
ساتھ ہی ہو گیا تھا مگر 1462ء میں اس بات کا صریحا انکشاف اٹلی کے طبیب اور
فلاسفرز پمپو نیشن نے کیا کہ مذہبی پیشواؤں کے معبدوں میں جا کرجو مریض صحت یاب
ہوتے ہیں۔اسکی وجہ ان کے اپنے تخیل کی قوت ہے۔
بعدازاں فرانزانتون میسیمر(1815ء تا1734ء)پہلا شخص تھا جس نے
1766ء میں اپنے ایک مقالے میں حیوانی مقناطیسیت کا نظریہ پیش کیا۔اپنے اس نظریے کی
بنیاد پر اس نے ویانا (آسٹریا)میں اس کی پریکٹس شروع کر دی میسیمرکا خیال تھا کہ
ستا روں کی گردش انسانی برتاؤ اور امراض پر اثر انداز ہوتی ہے۔اس مقصد یعنی امراض
کیلئے وہ مقناطیس کے ٹکڑوں کا استعمال کرتا تھا۔ میسمیر ویانا یو نیورسٹی
کا فارغ التحصیل تھا اور اس نے طب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی تھی۔ابتداء میں وہ
امراض کا علاج مقناطیس کے ٹکڑوں سے کرتا تھا۔ پھر اس کی ملاقات سوٹزرلینڈ میں ایک
فادر گیسز نامی شخص سے ہوئی جو مقناطیس کے بغیر ہی محض اپنے ہاتھوں کے لمس سے
مریضوں کو ٹھیک کر دیتا تھا۔تب اس کو اپنے نظریے میں ترمیم کرنا پڑی اور اس نے
اپنے نئے نظرئیے کا اظہار شروع کر دیا کہ اس کے اپنے جسم میں ایک روحانی قوت ہے جس
کے زیر اثر لوگ شفا یاب ہو جا تے ہیں۔ جب اس کے مریضوں میں روزبروز اضافہ ہونے لگے
تو میسمیر نے گروپ تھراپی کا طریقہ اپنایا۔
اس نے ایک بہت بڑا ٹب بنوا کر اس میں لوہے اور شیشے کے ٹکڑے
بھر دئیے اور پھر اپنی دانست میں انہیں چھو کر ان میں شفابخش قوت بھر دی 20،25
مریضوں کو ٹب کے چاروں اطراف اس طرح بٹھاتا کہ ان کے ہاتھ ٹب کو چھوتے رہیں ۔اس کے
بعد ہلکی ہلکی موسیقی کے ذریعے اس نے اپنے مریضوں پر خواب کی سی حالت طاری کردی۔
کچھ دیر بعد جب یہ حالت ختم ہوئی تو مریض ٹھیک ہو چکے تھے۔ اس طریق کو بڑی مقبولیت
ملی اور لوگ میسمیر کو بہت بڑا مسیحا سمجھنے لگے لیکن اسکی شہرت نے روایتی معالجوں
کو اس کا مخالف بنا دیا ۔میسمیر مخالفت کا مقابلہ نہ کر سکااور پیرس چلا آیا۔ یہاں
اس کے بہت شاگرد بن گئے۔کچھ عرصے بعد پیرس میں بھی اس کی مخالفت نے شدت اختیار کر
لی۔
فرانس کے بادشاہ لوئی شش دہم نے حاسدوں کے کہنے پر 1784ء میں
ایک تحقیقاتی کمیشن مقرر کر دیا کمیشن نے میسمیر کو محض فریب کار دے دیا اس کے بعد
وہ سوٹزرلینڈ چلا گیا جہاں اس نے 1815ء میں وفات پائی۔
1815ء سے 1842ء تک مختلف معالج ہپناٹزم کی پریکٹس کرتے رہے۔
29جون 1842ء کو ڈاکٹر
جیمس بریڈ نے ریسرچ کر کے برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کے اجلاس میں ایک مقالہ پڑھا جس
کا عنوان تھا ” اعصابی ہپناٹزم کی شفا
بخش تاثیر“
ہپناٹزم کا لفظ ڈاکٹر بریڈ کی ایجاد ہے ۔ اس نے یونانی لفظ
ہپناسس سے اس لفظ کو اخذ کیا جس کے معنی نیند ہیں۔چونکہ اس عمل میں مصنوعی نیند
طاری کی جاتی ہے اس لئے اس کا نام عمل تنویمی یا ہپناٹزم رکھا گیا۔
ایک مصنف اس کے متعلق
لکھتے ہیں کہ
عمل الترب میں جس کو
زمانہ حال میں میسمریزم کہتے ہیں۔ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق
کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کران چیزوں کو زندہ کے موافق کر
دکھاتے ہیں۔۔۔۔سو یقینی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اگر ایک شخص اس فن میں کامل مشق
رکھنے والا مٹی کا ایک پرندہ بنا کراس کو پرواز کرتا ہوا بھی دیکھا دے تو کچھ بعید
نہیں۔کیونکہ کچھ اندازہ نہیں کیا گیا کے اس فن کے کمال کی کہاں تک انتہا ہے۔۔۔مگر
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام والناس اس کو
خیال کرتے ہیں اگر یہ عاجز اس عمل کومکرو ہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا توخداتعالیٰ
کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن
مریم سے کم نہ رہتا ۔لیکن مجھے وہ روحانی طریق پسند ہے جس پر ہمارے نبی ﷺنے قدم
مارا ہے (یعنی رسول مقبول ﷺ نے اس علم کی بجائے خدائے تعالیٰ سے مدد مانگی اور ہر
پل دعاؤں سے خدا کی رضا چاہی)۔۔۔ یہ جو میں نے میسمریزمی طریق کا عمل الترب نام
رکھا جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے یہ الہامی نام ہے اور خدائے
تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ عمل الترب ہے اور اس عمل کے عجائبات کی نسبت یہ
الہام ہوا ۔
ھذاھوالترب الذی لا یعلمون یعنی یہ وہ عمل الترب ہے جس کی اصل حقیقت کی
زمانہ حال کے لوگوں کو کچھ خبر نہیں ۔
ہپناٹزم
کی بے شمار تعریفوں میں چند ایک یہ ہیں۔
ڈاکٹر بیڈن مین کے
بقول : کسی بھی شخص کو اپنی شخصیت
،اخلاق وکردار اور گفتگو سے متاثر اور قائل کر کے اپنی بات منوا لینے کا سائنسی فن
ہپناٹزم ہے۔
ڈاکٹر ابراہام مائیم کے بقول : ہپناٹزم کوئی جادو،بلیک آرٹ،وچ کرافٹ، ٹونے ٹوٹکے یا کسی مافوق
الفطرت علم و فن کا نام نہیں بلکہ یہ ماورائی سائنس کا تسلیم شدہ فن ہے ۔
ڈاکٹر سوبران کے بقول : ہپناٹزم
کا تعلق پراسائیکالوجی سے ہے،جو ایک نفسیاتی حقیقت ہے۔اس کی بنیاد ذہن، اعصاب اور
جسمانی نظام پر قائم ہے۔
ہپناٹزم میں چند اصطلاحات کا استعمال بھی ہوتا ہے۔
(۱) عامل : ہپناٹزم کا ماہر
وہ شخص جو علم توجہ کی مشقیں کرکے اس علم میں مہارت حاصل
کرچکا ہو۔
(۲) معمول: جس کو ہپناٹزم کیا جا رہا ہو۔یا کیا ہو۔
وہ شخص جس کو ماہر
ہپناٹائز اپنی مشقوں کی مدد سے اور تجربے سے اپنے خیالات سے متاثر کررہا ہوں یا
متاثر ہوچکا ہو۔
(۳) سجیشن : کسی کو ہپناٹائز کرنے کے لئے دی جانے والی
ہدایت۔
ماہر ہپناٹائز اور جس کو
ہپناٹائز کیا جارہا ہو اس دوران دی جانے والی ہدایات یا مخصوص مشقوں کے ذریعے کسی
کو متاثر کرنے کا عمل
کسی کو ہپناٹائز کرنے کے لئے
ایک عامل کی خصوصیات:
عا مل کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اعلیٰ کردار کا مالک اور ہپناٹزم
کا ما ہر ہو ۔انسانی نفسیات سے بھی اچھی طرح آگاہ ہو اور صبر اور قوت، برداشت کا ہونا بہت ضروری ہے۔
علاوہ ازیں کسی کو ہپناٹائز کرنے کے لیے درج ذیل امور کا خیال
رکھنا بہت ضروری ہے۔
معمول کااعتماد حاصل کیا
جائے۔اور جس جگہ ہپناٹائز کرنا ہو، اس جگہ غیر معمولی خاموشی اور روشنی کم ہونی
چاہیے۔اس جگہ کا درجہ حرارت نارمل ہونا بھی بہت ضروری ہے نیز سب سے بڑھ کر یہ کہ
معمول کی حالت نارمل ہونی چاہیے اور عامل کو چاہیے کہ معمول کو اپنے طاقتور الفاظ
و احساسات سے اس کو جسمانی اور ذہنی لحاظ سے بھی مطمئن کرتا رہے۔اور اس کو اپنے
جاذب الفاظ و احساسات سے سونے کی ہدایت دیتا رہے ۔
اس جگہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے الفاظ کو
طاقتور کیسے بنائے ؟
اس کے لئے چند مشقیں ہیں۔جن کو استقلال و صبر و برداشت سے
کرنا ہوتا ہے اور ذرا سی غلطی آپ کو نقصان سے دو چار کر سکتی ہے
مشقوں میں شمع بینی،آئینہ
بینی،چاند بینی،آفتاب بینی شامل ہیں، جو بھی اس علم کو سیکھنا چاہتا ہو تو اسے
چاہیئے کہ وہ شمع بینی کے لئے اعلیٰ قسم کی موم بتی استعمال کرے اور رات کے
اندھیرے میں موم بتی جلا کر اس کی لو کو دیکھنا شروع کردے۔ اسی طرح چاند اور سورج
کو دیکھنے کی بھی مشقیں کرے اور کوشش کرے کہ اس کی توجہ ایک نقطہ پر جم جائے جیسے
ہی وہ اس مرحلے پر پہنچے گا کہ موم بتی، چاند اور سورج کو دیکھتے ہی توجہ فوری ایک
نقطہ پر جم جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے کامیابی کی طرف قدم بڑھا لیا اور پھر
جتنی مشق زیادہ اور مسلسل کرتا رہے گا وہ اس علم میں ماہر ہوتا چلا جائے گا چونکہ ان
مشقوں میں آنکھوں اور ذہن کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے۔ اس لئے احتیاط کا دامن
چھوڑنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔اور ہر مشق کا آغاز 30 سیکنڈ سے کریں اور روز بروز
اضافہ کرتے کم از کم ایک گھنٹہ کر دیں۔
ہلکا عمل تنویم: اس
میں معمول کو ہلکی نیند میں لے جایا جاتا ہے اور اس حالت میں معمول اپنے ارد گرد
کا احساس کرتا رہتا ہے اس کی حالت قدرتی نیند سے پہلے کی خماری سے ملتی ہے۔
گہرا عمل تنویم: اس درجے میں معمول اپنے ارد
گرد سے بے خبر ہوجاتا ہے۔ اور صرف عامل کی آواز سنتا ہے اور اس کے حکم پر عمل کرتا
ہے اس حالت میں معمول کی حالت مردے کی سی ہوتی ہے
بے ہوشی کی حالت: اس حالت میں معمول دنیا سے بے خبر
ہوتا ہے اور مردے کی سی حالت ہے ۔اور وہ عامل کے احکام پر ہر وہ کام کر گزرتا ہے
۔جو بظاہر ناممکن ہوتا ہے ۔یہ عمل اکثر اوقات سخت نقصان دہ ہوتا ہے ۔اس سے معمول
کو جسمانی نقصان پہنچ سکتا ہے اس لئے اس سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔
کسی
کو ہپناٹائزکرنے کے لئے اس پر تنویمی نیند طاری کرنا ضروری ہے تا جلد کامیابی حاصل
ہو لیکن اگر آپ کسی کونیند کے بغیر ہپناٹائز کرنا چاہتے ہیں تو مشقوں کے بعدنرم و
با وقار لب و لہجے میں مسلسل سجیشن دے کر بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر اس کے لئے مسلسل اور انتھک محنت اور مشقوں کی ضرورت
ہے۔ نیز اس کے لئے جب تک عامل کا لب و لہجہ معمول کے لئے پُرخلوص نہیں ہوگا
کامیابی اتنی ہی مشکل ہوگی۔ اس کی مثال آج کل کے بار
بار دیئے جانے والے اشتہارات بھی ہیں۔جن کو بعض طبائع بلآخر قبول کر لیتی ہیں اور
یہی کمپنی کی کامیابی اور بزنس ڈویلپمنٹ ہوتی ہے۔
”ہپناٹسٹ اپنے معمول سے
ہر کام کرا سکتا ہے۔“ یہ محض گمراہ کن رویہ ہے ہاں کسی کام پر آمادہ کرنا عامل کے
بس میں ہے۔مثلاکسی کو اشتعال دلا کرکام بھی کرانا۔ہپناٹز م کی ایک مثال ہے۔ہپناٹزم
میں ایک خطرہ ایسا ہے جس سے ہر ہپناٹسٹ کو بچنا چاہیے اور وہ یہ کہ کسی بھی عورت
کو اکیلے میں ہپناٹائز نہ کیا جائے ورنہ بعد میں وہ اپنے کسی وہم کی بناء پر عامل
کی شہرت و عزت و جان کے لئے خطرہ بن سکتی ہے ۔
ہپناٹزم کی مشقوں کے بعدیا کسی کو ہپناٹائز کرنے کے بعد عامل
(ہپناٹسٹ) کے جسم سے مقناطیسی قوت نکل کر ضائع ہو رہی ہوتی ہے ۔اور اس کو ضائع
ہونے سے بچانے کے لئے وضو کرنابہتر قرار دیا ہے ۔تا کمزوری وغیرہ نہ ہو۔ جبکہ قبض
ہونا عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔
جہاں اس علم کے
نقصانات ہیں وہیں اس کے کچھ زبردست طبی فائدے بھی ہیں
” عمل تنویم کا ماہر
ارتکاز توجہ سے دوسروں کے ذہنوں پر اپنے تصورات مسلط کر سکتا ہے جیسا کہ نفسیاتی
علاج کے بارہ میں بالعموم سمجھا جاتا ہے عمل تنویم کا مقصد دماغ میں پوشیدہ رازوں
سے پردہ اٹھانا یا اسکی صحت یابی کے لئے دماغی قوت کو متحرک کرنا ہے۔بسا اوقات ایک
پراگندہ حال مریض اپنے منتشر خیالات کا سامنا کر نے کی ہمت کھو بیٹھتا ہے۔وہ ان
خیالات کو اپنے ذہن کی گہرائی میں دفن کر چکا ہوتا ہے لیکن اتنی گہرائی میں بھی
نہیں ۔ بلکہ ایسے خیالات کہیں شعوراور تحت الشعور کے درمیان بے چینی کی کیفیت میں
معلق رہتے ہیں۔اور مریض بلآخر معمول سے بیرونی مدد سے اس حد تک قوت مجتمع کر لیتا
ہے کہ ان خیالات کو ذہن کی شعوری سطح تک لا کر ان سے چھٹکارا حاصل کر سکے۔“
اختتامیہ:۔
اس ای بک کا اختتامیہ چند
قیمتی سطور کے توسط سے کرنا چاہوں گا جس میں نہ صرف ایک پیغام ہے بلکہ تمام مضمون
کا خلاصہ بھی ہے۔
” ہمیں چاہیے کہ کسی
سچائی کو ضائع نہ کریں اور ہر ایک وہ حقیقت یا خاصیت جو عین صداقت ہے اس کو خدائے
تعالیٰ کی طرف سے سمجھیں علم الترب ایک عظیم و الشان علم ہے جو طبیعی کا ایک
روحانی حصہ ہے۔ جس میں بڑے بڑے خواص اور عجائبات پائے جاتے ہیں۔اور اس کی اصلیت یہ
ہے کہ انسان جس طرح باعتباراپنے
مجموعی وجود کے تمام چیزوں پر خلیفہ اللہ ہے اور سب چیزیں اس کے تابع کر دی گئی
ہیں۔اسی طرح انسان جس قدر اپنے اندر انسانی قویٰ رکھتا ہے۔ تمام چیزیں ان قویٰ کی
اس طرح پر تابع ہیں کہ شرائط مناسبہ کے ساتھ ان کا اثر قبول کر لیتی ہیں۔“
0 Comments
Thanks for your feedback.