بینا کی خودداری اور تابش کی بے وفائی
چودہ سالہ وفا کا صدمہ اور زندگی کا نیا موڑ
تابش کا دھوکہ، بہرام کا سہارا اور بینا کی غیرت کی جنگ
زندگی انسان کو اکثر ایسے کٹھن موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں برسوں کا خلوص اور محبت ایک لمحے میں ریت کی دیوار کی طرح ڈھ جاتی ہے۔ یہ کہانی ہے بینا اور اس کے شوہر تابش کی، جن کی ازدواجی زندگی کو پورے چودہ سال گزر چکے تھے۔ بینا ایک ایسی باوفا اور قربانی کی تصویر تھی جس نے ہر مشکل وقت، ہر تنگ دستی اور پریشانی میں اپنے شوہر کا ساتھ نبھایا تھا۔ اس نے تابش کے برے دنوں میں اس کی ڈھارس بندھائی اور گھر کو ہر طرح سے سنبھال کر رکھا۔ لیکن جب وقت کا پہیہ گھوما اور حالات بہتر ہوئے، تو انسان کی فطرت بھی بدل گئی۔ تابش کے دل اور رویے میں بھی زبردست تبدیلیاں آنے لگیں۔ وہ اپنی اسی بیوی کو جو اس کے ہر دکھ میں شریک رہی تھی، اب پرانی اور اپنے مرتبے کے خلاف سمجھنے لگا تھا۔ وہ گھر میں اسے بوجھ محسوس کرانے لگا اور اس کی پیٹھ پیچھے ناز نامی ایک لڑکی سے خفیہ طور پر دوسری شادی کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا۔
بینا کو جب اس ہولناک دھوکے اور بے وفائی کی حقیقت کا پتہ چلا، تو اس کی دنیا اندھیر ہو گئی۔ وہ بخوبی جان چکی تھی کہ جس گھر میں اس نے اپنی جوانی کا ایک ایک لمحہ، اپنی خوشیاں اور اپنا سکون قربان کر دیا تھا، اب وہاں اس کی عزت کا کوئی مقام نہیں بچا۔ دلبرداشتہ ہو کر، رات کے اندھیرے میں ہی وہ سورج طلوع ہونے سے پہلے گھر سے نکل پڑی۔ اس کے دل میں بس ایک ہی خیال تھا کہ اب اس بے وفا دنیا میں مزید زندہ رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں۔ ادھر گھر میں جب معصوم بیٹی ماہم اٹھی اور اس نے اپنی ماں کو پورے گھر میں نہ پایا، تو وہ گھبرا کر اپنے باپ تابش کے پاس گئی۔ ماہم کے رونے اور گھر میں کہرام مچ جانے پر تابش اور اس کی خود غرض ماں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ تابش نے فوراً بینا کی ماں کو فون کیا، مگر جب اسے معلوم ہوا کہ بینا وہاں بھی نہیں پہنچی، تو اس کے اندر کا غصہ اور انا جاگ اٹھی۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنی بیوی کی تلاش کرتا، اس نے غصے میں آ کر یہاں تک کہہ دیا کہ ایسی نافرمان عورت کو اب اس گھر میں واپس آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تابش کا اصل مقصد صرف اپنی آنے والی نئی شادی اور اپنے سیاسی و سماجی کریئر کو بچانا تھا، جسے وہ کسی بھی قیمت پر خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
دوسری طرف بینا ریلوے اسٹیشن پر پہنچی، جہاں اس کی آنکھوں کے سامنے ایک اور پریشان حال عورت نے ٹرین کے آگے آ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اس ہولناک منظر کو دیکھ کر بینا کے دل میں بھی یہی خیال آیا کہ وہ بھی اپنی اس اذیت ناک زندگی کو یہیں ختم کر دے۔ جیسے ہی ٹرین پٹڑی پر نمودار ہوئی، بینا نے اس کی طرف دوڑ لگا دی، مگر عین وقت پر ایک فرشتہ صفت انسان وہاں پہنچ گیا۔ وہ اور کوئی نہیں بلکہ بہرام تھا، وہی غریب سبزی فروش لڑکا جس سے بینا ہمیشہ سبزیاں خریدا کرتی تھی اور جو بدلے میں بینا کی شرافت اور اس کی بیمار ماں کی مدد کرنے کی وجہ سے اس کی بے حد عزت کرتا تھا۔ بہرام نے اپنی جان پر کھیل کر بینا کو ٹرین کے سامنے کودنے سے بچا لیا۔ بینا پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور اس نے اپنی زندگی کی ساری تلخ کہانی بہرام کو سنا دی۔ بہرام نے انتہائی خلوص اور ادب کے ساتھ بینا کو سمجھایا اور کہا کہ وہ فی الحال اسے اپنے گھر لے جا رہا ہے جہاں اس کی ماں بھی موجود ہیں، اور جب اس کا دل ہلکا ہو جائے گا تو وہ اسے خود واپس چھوڑ آئے گا۔ بینا نے بہرام کی شرافت پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔
شام ڈھلتے ہی جب تابش کے گھر میں نکاح کی تیاریاں عروج پر تھیں اور وہ دولہا بننے کی تیاری کر رہا تھا، تبھی معصوم ماہم وہ خبر لے کر آئی جس نے سب کے ہوش اڑا دیے۔ ٹی وی پر چلنے والی نیوز میں ایک عورت کی ٹرین کے سامنے خودکشی کی خبر دیکھ کر ماہم پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور اپنے باپ سے کہنے لگی کہ کہیں یہ مما تو نہیں ہیں۔ نوکروں کے آپس میں چہ مگوئیوں اور اس خبر نے تابش کے پیروں تلے زمین کھینچ دی۔ اسے فوراً یاد آیا کہ آج صبح بینا نے بھی سبز رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے۔ وہ اپنا شاہانہ لباس بدل کر فوراً اسی سبزی والے کی دکان پر پہنچا، جہاں اسے معلوم ہوا کہ بہرام بھی آج دکان پر نہیں ہے اور ریلوے اسٹیشن کی طرف گیا ہے۔ شک کی آگ میں جلتا ہوا تابش سیدھا ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا تاکہ اپنی عزت اور سیاسی ساکھ کو بچا سکے۔ وہاں ناکہ بندی کروا کر جب اس نے مسافروں کی فہرست دیکھی، تو اس کا شک یقین میں بدل گیا جب اسے بینا اور بہرام کے نام مل گئے۔
تابش غصے سے پاگل ہو کر پوری ٹرین میں انہیں تلاش کرنے لگا اور آخرکار اس نے دونوں کو ڈھونڈ ہی لیا۔ اس نے فوراً پولیس کو بلا کر بہرام پر الزام لگا دیا کہ وہ اس کی بیوی کو اغوا کر کے لے جا رہا ہے تاکہ وہ خود کو بچا سکے۔ لیکن بینا نے جب یہ دیکھا تو اس کے اندر کی چھپی ہوئی طاقت جاگ اٹھی۔ اس نے فوراً اپنے ہاتھ میں موجود چھری نکالی اور صاف لفظوں میں تابش کو تنبیہ کی کہ اگر بہرام کو ایک خراش بھی آئی تو وہ وہیں اپنی جان دے دے گی۔ بینا نے سب کے سامنے تابش کے نقاب کو نوچ ڈالا۔ اس نے کہا کہ تم مرد اگر بے وفائی کی ابتدا کرو تو وہ تمہارا حق بن جاتا ہے، لیکن ایک باوفا عورت جب مجبور ہو کر گھر چھوڑتی ہے تو تمہیں اپنی عزت عزیز ہو جاتی ہے۔ تم نے چودہ سال کی وفا کو پیروں تلے رونگ کر ایک اجنبی عورت سے خفیہ نکاح کرنے کی سازش کی تھی۔ تم نے مجھے میرے بچوں کے سامنے کبھی عزت نہیں دی، اور اب مجھے تمہارے اس گھر کی، تمہاری دولت کی اور تمہارے جھوٹے پیار کی کوئی ضرورت نہیں۔
بینا کے منہ سے یہ سچی اور کखरी باتیں سن کر تابش کا غرور پگھل گیا۔ اسے اپنی تمام غلاظت اور بے وفائی کا شدید احساس ہوا۔ اس نے فوراً پولیس کو روکا، بہرام کو آزاد کیا اور بینا کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگا۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ دوسری شادی کا نام بھی نہیں لے گا اور اپنے بچوں کی خاطر گھر واپس چلنے کی منت کی۔ بینا نے ثابت کر دیا کہ ایک عورت بھلے ہی صدمات کا شکار ہو جائے، لیکن اس کی خودداری اور غیرت کو کوئی نہیں خرید سکتا۔ یہ کہانی ہمیں یہ گہرا سبق دیتی ہے کہ رشتوں کی بنیاد محبت، خلوص اور باہمی عزت پر ہوتی ہے، اور جو لوگ اپنے محسنوں اور وفادار ساتھیوں کی قدر نہیں کرتے، وہ زندگی کے ہر موڑ پر شکست اور رسوائی کا ہی سامنا کرتے ہیں۔
کہانی کا نام: بینا کی خودداری اور تابش کی بے وفائی
ہیرو: بینا (ایک خوددار، باوفا اور مظلوم بیوی)
ولن: تابش (خودغرض، مکار اور بے وفا شوہر)
سائیڈ کردار: بہرام (مخلص سبزی فروش)، ماہم (معصوم بیٹی) اور ناز (سازشی دوسری عورت)

0 Comments
Thanks for your feedback.