Urdu Khaniya - Digital Kahani - Sohar Ney Pardes Ja kar Dosri Shadi kar li

کامران کی بے روزگاری اور گھر کا کٹھن حالات

صبح کا وقت تھا، کامران اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا اور ماحول میں ایک عجیب سی اداسی اور پریشانی پھیلی ہوئی تھی۔ کامران پچھلے تین مہینے سے بالکل بے روزگار تھا اور گھر کا خرچ چلانا انتہائی مشکل ہو چکا تھا۔ اس کی بیوی نمرہ دن رات محنت کرتی، لوگوں کے کپڑے سلائی کرتی اور طرح طرح کے طعنے سن کر بھی اپنے شوہر کی ڈھارس بندھاتی تھی۔ اس دن بھی نمرہ نے جلدی سے کھانا تیار کیا تاکہ کامران کو دے سکے اور خود اپنے باقی کام نپٹا سکے۔ جب کامران نے مایوس ہو کر بتایا کہ آج بھی اسے کوئی کام نہیں ملا تو نمرہ نے اسے پیار سے سمجھایا کہ وہ دل چھوٹا نہ کرے کیونکہ اس نے کچھ کپڑے سلائی کیے ہیں جن کے پیسے شام تک مل جائیں گے، اور اس طرح گھر کا گزارا چل جائے گا۔ نمرہ خود ایک روٹی کے آٹے پر گزارا کرتی اور سارا کھانا کامران کے آگے رکھ دیتی تاکہ اس کے شوہر کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دبئی کا ویزا اور بیوی کی عظیم قربانی

کچھ دنوں بعد کامران کا دوست فراز اس کے پاس آیا اور ایک بڑی خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ اس کے پاس دبئی کے بہترین ویزے موجود ہیں جن کی قیمت تین لاکھ روپے ہے، اور اگر کامران وہاں چلا گیا تو اس کی پوری زندگی بدل جائے گی۔ کامران اتنی بڑی رقم کا سن کر گھبرا گیا کیونکہ اس کے پاس ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔ جب کامران نے گھر آ کر یہ بات نمرہ کو بتائی اور اپنی بے بسی کا اظہار کیا تو نمرہ نے اپنے سچے خلوص اور محبت کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے سونے کے زیورات بیچ دے تاکہ تین لاکھ روپے پورے ہو جائیں۔ کامران نے پہلے منع کیا کہ وہ اس کے زیورات نہیں بیچ سکتا، لیکن نمرہ نے اصرار کیا کہ وہ بعد میں اسے اور نئے زیورات بنوا دینا اور فی الحال یہی رقم کا ذریعہ ہے۔ نمرہ نے اپنے تمام زیورات بیچ کر وہ تین لاکھ روپے کامران کے حوالے کر دیے، اور کامران اپنی بیوی کی اس بے پناہ قربانی کو مانتے ہوئے دعاؤں کے ساتھ دبئی روانہ ہو گیا۔

حمل کی خبر اور کامران کی سرد مہری

دبئی جانے کے کچھ عرصے بعد نمرہ کو طبیعت میں تبدیلی محسوس ہوئی اور جب وہ گاؤں کی دائی کے پاس گئی تو اسے معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہے۔ یہ سن کر نمرہ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی اور اس نے سوچا کہ جب کامران کو یہ خوشخبری ملے گی تو وہ بہت خوش ہوگا۔ لیکن پورا ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی جب کامران کا فون نہیں آیا تو نمرہ خود پریشان ہو گئی۔ جب کافی دنوں بعد کامران کا فون آیا اور نمرہ نے بڑی خوشی سے اسے بتایا کہ وہ ماں بننے والی ہے، تو کامران نے ذرا سا بھی جوش یا خوشی کا اظہار نہیں کیا بلکہ یہ کہہ کر فون کاٹ دیا کہ وہ اس وقت بہت مصروف ہے اور بعد میں رابطہ کرے گا۔ اصل میں دبئی پہنچنے کے بعد کامران شازیہ نامی ایک ماڈرن لڑکی کے عشق میں گرفتار ہو چکا تھا، جو صرف عیش و آرام چاہتی تھی۔ کامران نے شازیہ کے سامنے جھوٹ بولا کہ اس کی کوئی بیوی نہیں ہے، اور وہ سات ماہ تک نمرہ سے بالکل لاتعلق رہا اور نہ ہی کبھی کوئی خرچہ بھیجا۔

پاکستان واپسی اور نمرہ پر ظلم

پورے سات ماہ گزرنے کے بعد جب کامران پاکستان واپس آیا تو وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ اپنے ساتھ شازیہ کو بھی لے کر آیا تھا۔ جب نمرہ کو خبر ملی تو وہ خوشی خوشی اپنے شوہر کا استقبال کرنے پہنچی، لیکن کامران نے اسے دیکھتے ہی غصے سے دھکا دے کر پرے ہٹا دیا اور کہا کہ اس کے قریب مت آؤ۔ نمرہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی اور جب اس نے پوچھا کہ یہ لڑکی کون ہے اور وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہا ہے، تو کامران نے شازیہ کے سامنے نمرہ کو پینڈو اور جاہل قرار دیا اور کہا کہ وہ اب اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا کیونکہ شازیہ ہی اس کی اصل ہمسفر ہے۔ نمرہ نے روتے ہوئے اپنی دی ہوئی قربانیوں، اپنے زیورات بیچنے اور اپنے حمل کا واسطہ دیا، لیکن بے رحم کامران کا دل ذرا بھی نہیں پسیجا۔ اس نے نمرہ کو تین طلاقیں دے کر گھر سے ذلیل کر کے باہر نکال دیا، اور نمرہ کی تمام سالوں کی وفاداری پر پانی پھیر دیا۔

شہر میں پناہ اور عدنان کی محبت

دنیا کی ستم ظریفی کا شکار ہو کر نمرہ روتی ہوئی شہر کی طرف روانہ ہوئی اور اپنی پرانی دوست آمنہ کے گھر جا پہنچی۔ آمنہ نے جب نمرہ کو اس حالت میں دیکھا تو اسے گلے سے لگا لیا اور اپنے گھر میں رہنے کی پوری جگہ دی۔ اتفاق سے اس گھر میں آمنہ کا بھائی عدنان بھی موجود تھا، جو بچپن سے نمرہ سے ایک طرفہ اور سچی محبت کرتا تھا لیکن نمرہ کی کامران سے شادی ہو جانے کی وجہ سے اس نے کبھی شادی نہیں کی تھی اور ہمیشہ تنہا رہا تھا۔ جب عدنان کو معلوم ہوا کہ کامران نے نمرہ پر کتنا بڑا ظلم کیا ہے اور اسے بے آبرو کر کے گھر سے نکالا ہے، تو عدنان نے انسانیت اور پرانی محبت کا حق ادا کرتے ہوئے نہ صرف نمرہ کو اپنے گھر میں باعزت پناہ دی بلکہ اس کے آنے والے بچے کو اپنے سگے بیٹے کی طرح اپنانے کا اعلان کیا۔ عدنان نے نمرہ سے باقاعدہ نکاح کیا اور اسے وہ تمام عزت، سکول اور پیار دیا جس کی وہ حقدار تھی۔

کامران کا عبرت ناک انجام اور پچھتاوا

دوسری طرف قدرت کا قانون حرکت میں آیا؛ کامران کا ایک خوفناک روڈ ایکسیڈنٹ ہو گیا جس میں اس کی ٹانگ شدید زخمی ہو گئی اور ڈاکٹروں نے کہا کہ اسے تین مہینے کا مکمل آرام چاہیے اور آپریشن کے لیے پانچ لاکھ روپے کی ضرورت ہوگی۔ شازیہ، جو صرف کامران کے پیسے اور دولت کی بھوکی تھی، جب اس نے دیکھا کہ کامران اب معذور ہو چکا ہے اور اس کے پاس پیسے بھی ختم ہو رہے ہیں، تو وہ موقع پا کر گھر کا سارا کیش، مال اور قیمتی سامان لے کر راتوں رات فرار ہو گئی۔ جب کامران کو ہوش آیا اور اس نے گھر میں شازیہ کو غائب پایا تو اسے اپنی بدبختی اور بے وفائی کا پورا احساس ہوا، اور اسے اپنی اس وفادار بیوی نمرہ کی یاد ستانے لگی جس نے اس کے لیے اپنے زیورات تک بیچ دیے تھے۔ جب کامران ٹوٹے ہوئے دل اور بیساکھیوں کے سہارے بھٹکتے ہوئے نمرہ کے نئے گھر پہنچا اور دروازے پر ہاتھ جوڑ کر نمرہ سے معافی مانگنی چاہی، تو نمرہ نے دروازے پر کھڑے ہو کر صاف کہہ دیا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے، اب وہ کامران کی بیوی نہیں بلکہ عدنان کی عزت ہے، اور اس کا یہ بچہ بھی صرف عدنان کا بیٹا ہے۔ کامران اپنے کیے پر خون کے آنسو روتا رہ گیا، اور یوں بے وفائی کرنے والے کو دنیا میں ہی اپنی سجا اور عبرت ناک انجام مل گیا۔

http://www.youtube.com/watch?v=GPfYTSM4Q8o

Post a Comment

0 Comments