لکڑی کا جھولا اور پرانی لوری
بچپن کی یادیں اور خاموش کمرہ
ماں کی تھکی آواز اور بیٹے کی رنگین دنیا
زندگی انسان کو کامیابی کے ایسے بلند ترین مقام پر پہنچا دیتی ہے جہاں وہ دنیا بھر کا شور و غل تو سن لیتا ہے، مگر اس ماں کی دبی ہوئی سسکیاں اور پرانی لوریوں کی آوازیں بھول جاتا ہے جو اس نے اپنے بچپن میں سکون کی نیند سونے کے لیے سنی تھیں۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی آئرہ کی، جو گاؤں کے ایک ویران سے گھر میں لکڑی کے ایک پرانے اور ہلتے ہوئے جھولے کے پاس اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا فیضان تھا، جسے مائی بی بی آئرہ نے لوگوں کے کھیتوں میں مزدوری کر کے، خود رات بھر جاگ کر، اسی جھولے کو ہاتھ سے ہلا کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔
فیضان جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانے جھولے کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی بی بی آئرہ ہر روز شام کو اسی پرانے جھولے کے پاس بیٹھ جاتی، اسے ہلکا سا ہلا کر اپنے بیٹے کی بچپن کی باتیں یاد کرتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا فیضان کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس جھولے کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ اسے اپنے بیٹے کی موجودگی کا احساس ہوتا رہے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی آئرہ کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ فیضان جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ فیضان کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔
جب فیضان نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو کونے میں رکھے اسی پرانے لکڑی کے جھولے پر اس کی نظر پڑی، جس کے اندر ایک پرانی ڈائری رکھی تھی۔ جب اس نے کانپتے ہاتھوں سے ڈائری کھولی تو اس میں مائی بی بی آئرہ کی لرزتی ہوئی تحریر تھی: "میرے پیارے بیٹے فیضان، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس جھولے کو اس لیے سنبھال کر رکھا کہ میرا دل تجھے ڈھونڈتا رہے۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی فیضان کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے جھولے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ جھولا ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکا تھا۔
کہانی کا نام: لکڑی کا جھولا اور پرانی لوری
ہیرو: مائی بی بی آئرہ (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: فیضان (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.