آخری خط اور سیاہی کے آنسو
روشن چراغ اور ادھورے خواب
ماں کے کانپتے ہاتھ اور بیٹے کی چکاچوند دنیا
زندگی جب انسان کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچاتی ہے تو اکثر وہ اپنے ماضی کے ان تمام سنگ میلوں کو بھول جاتا ہے جن کی سختیوں نے اسے پاؤں پر کھڑا کیا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی بیوہ مائی صغراں کی، جو ایک دور افتادہ گاؤں میں مٹی کے دیئے کی ہلکی سی روشنی میں دن کاٹا کرتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا فواد تھا، جسے مائی صغراں نے لوگوں کے گھروں میں کپڑے دھو کر، خود بھوکے پیٹ سو کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے سب سے بڑے طبی ادارے سے ڈاکٹر بنایا تھا۔
فواد جب شہر میں ایک مشہور اور دولت مند سرجن بن گیا اور اس کے پاس عالیشان ہسپتال، مہنگی ترین گاڑیاں اور شہر کے پوش علاقے میں فلیٹ آ گیا، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر کو اپنے اونچے معیار زندگی کے خلاف سمجھا۔ شروع میں مہینے میں ایک بار فون پر بات ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی بالکل ختم ہو گیا۔ مائی صغراں ہر روز شام کو اپنے دروازے پر بیٹھ جاتی، ایک پرانے کاغذ پر اپنے ہاتھ سے روز نامچہ لکھتی رہتی اور اس امید پر سڑک کی طرف تکتی کہ شاید اس کا فواد اسے دیکھنے آ جائے۔ وہ اپنے بیٹے کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دیتی تھی تاکہ وہ اپنے کام میں دل لگا سکے۔
ایک دن شہر کے ایک بڑے ہسپتال سے فون آیا کہ مائی صغراں کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ فواد جب اگلے دن اپنی لگژری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ فواد کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی بے چینی تھی کہ اس کی شام کی ہسپتال کی اہم سرجری مس نہ ہو جائے۔
جب فواد نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو میز پر رکھے ایک پرانے لفافے پر اس کی نظر پڑی۔ اس نے جب وہ خط کھولا تو اس پر مائی صغراں کے لرزتے ہوئے الفاظ تحریر تھے: "میرے پیارے بیٹے فواد، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا نام کمایا ہے۔ میں نے تیرے لیے اپنی زندگی کے آخری چراغ کی لو تک جلا دی تھی۔ تو جہاں بھی رہے، خوش رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی فواد کے اندر کا سارا غرور اور تکبر پل بھر میں ٹوٹ گیا۔ وہ اس خط کو سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ہاتھ ہمیشہ کے لیے رک چکے تھے جن کی دعاؤں سے اس کی دنیا روشن ہوئی تھی۔
کہانی کا نام: آخری خط اور سیاہی کے آنسو
ہیرو: مائی صغراں (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غرور اور مادیت پرستی
سائیڈ کردار: فواد (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.