Urdu Khaniya - Digital Kahani - Adohra khat

ادھورا خط اور ماں کی انتظار گاہ - جذباتی کہانی

ادھورا خط اور ماں کی انتظار گاہ

تحریر: خصوصی جذباتی کہانیاں | زمرہ: سبق آموز اور دل کو چھو لینے والی کہانیاں

شہر کے سب سے پرانے اور خاموش قبرستان کے باہر ایک چھوٹا سا چائے کا کھوکھا تھا۔ وہاں بیٹھا ستر سالہ بابا رحیم ہر شام ایک ہی میز پر آ کر بیٹھ جاتا، اس کے ہاتھ میں ایک پرانا، پیلا پڑ چکا لفافہ ہوتا اور آنکھوں میں ایک ان کہی اداسی۔

رحیم کی زندگی کا ایک ہی سکھ تھا؛ اس کا اکلوتا بیٹا، حمزہ۔ بیوی کے انتقال کے بعد رحیم نے دن رات ایک کر کے، لوگوں کے گھروں میں مزدوری کر کے حمزہ کو پڑھایا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا بڑا افسر بنے اور دنیا میں اس کا نام روشن ہو۔ جب حمزہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر کے ملک کی اسکالرشپ ملی، تو رحیم کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ اس نے اپنی زندگی کی آخری پونجی بھی بیٹے کے ہوائی ٹکٹ اور خرچے میں لگا دی تھی۔

جب حمزہ گیا، تو جاتے ہوئے اس نے باپ سے وعدہ کیا تھا:

"ابو! جیسے ہی سیٹ ہو جاؤں گا، آپ کو بھی بلا لوں گا، اور پھر ہم کبھی الگ نہیں ہوں گے۔"

شروع کے چند ماہ تو بیٹا باقاعدگی سے فون کرتا رہا، مگر آہستہ آہستہ فون کا یہ سلسلہ پہلے ہفتے میں ایک بار، پھر مہینے میں ایک بار، اور پھر سال میں ایک بار تک سمٹ گیا۔ وقت گزرتا گیا، بال سفید ہو گئے، کمر جھک گئی، لیکن بابا رحیم کی آنکھیں اسی راستے پر جمی رہیں جہاں سے حمزہ کے واپس آنے کا رستہ گزرتا تھا۔

ایک سرد شام، جب بارش بوندوں کی شکل میں زمین پر برس رہی تھی، کھوکھے والے لڑکے نے ٹیبل پر چائے کا گرم کپ رکھا اور بولا: "بابا! آج بھی انتظار؟ وہ اب نہیں آئے گا۔ اتنے سال گزر گئے، اب تو شائد وہ آپ کو بھول بھی چکا ہوگا۔"ы

بابا رحیم کے ہونٹوں پر ایک درد بھری مسکراہٹ آئی۔ اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے وہ پرانا لفافہ نکالا اور بولا:

"بیٹا! باپ کبھی اولاد کو نہیں بھولتا، اور اولاد کے لوٹ آنے کا یقین ہی تو اس بوڑھے جسم کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔"

اچانک کھوکھے کے باہر ایک لگژری گاڑی آ کر رکی۔ اس میں سے ایک سوٹ پہنے ہوئے ادھیڑ عمر شخص اترا، جس کے چہرے پر کامیابی کی چمک تو تھی، لیکن آنکھوں میں گہری تھکن اور پچھتاوا تھا۔ وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا سیدھا بابا رحیم کی میز کے پاس آ کر رک گیا۔

وہ حمزہ تھا!

حمزہ نے آگے بڑھ کر باپ کو گلے لگانا چاہا، لیکن بابا رحیم نے اپنے ہاتھ پیچھے ہٹا لیے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر آواز میں گلاوٹ کے ساتھ ایک عجیب سا سکون بھی تھا۔

حمزہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور بولا: "ابو! مجھے معاف کر دیجیے... میں پیسے کمانے اور اس اندھی دوڑ میں اتنا مصروف ہو گیا کہ مجھے معلوم ہی نہ ہوا کہ میرے اپنے گھر میں میرا سب کچھ پیچھے چھوٹ گیا ہے۔ جب تک مجھے ہوش آیا، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی... اب میں سب کچھ چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے آپ کے پاس آ گیا ہوں۔"

بابا رحیم نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ بیٹے کے سر پر رکھے، اس کے آنسو پونچھے اور آہستہ سے بولے: "دیر آئے درست آئے۔ میرا بیٹا لوٹ آیا، میرے لیے اس سے بڑی دنیا میں کوئی اور دولت نہیں تھی۔"

اس شام، برسوں کا انتظار ختم ہو گیا، اور وہ خالی لفافہ، جو کبھی امید کی علامت تھا، ہمیشہ کے لیے میز پر بند ہو کر رہ گیا۔ کہانی نے ثابت کر دیا کہ دولت اور شہرت انسان کو وقتی سُکھ تو دے سکتی ہے، مگر ماں باپ کی دعاؤں اور ان کی سچی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔

Post a Comment

0 Comments