Urdu Khaniya - Digital Kahani- Kahani no 113

ریلوے پھاٹک اور ادھوری گھڑی

ٹک ٹک کرتی سوئیاں اور تاریک دکان

باپ کے ٹٹولتے ہاتھ اور بیٹے کی گھڑیوں سے بے نیاز دنیا

جب دنیا میں کسی کو قیمتی برانڈڈ گھڑیاں کلائی پر باندھنے کا شوق ہوتا ہے، تو وہ یہ نہیں جانتا کہ کسی پرانے بازار کے کونے میں بیٹھ کر ان گھڑیوں کی باریک سوئیاں اور پرزے ٹھیک کرنے والے کسی نابینا بوڑھے باپ کی آنکھیں کتنی تاریکی میں ڈوبی ہوتی ہیں۔ یہ کہانی ہے بابا سلیم کی، جو جوانی میں ایک حادثے کے دوران اپنی بینائی گنوا بیٹھا تھا، مگر اس نے اپنے ہاتھوں کے لمس سے لوگوں کی ٹوٹی ہوئی گھڑیاں ٹھیک کرنے کا ہنر نہیں چھوڑا۔ بابا سلیم نے دن رات اسی دکان میں گھڑیاں سدھار کر، خود اندھیرے میں ٹھوکریں کھا کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر اپنے اکلوتے بیٹے ریحان کو شہر کے سب سے مہنگے ادارے سے مکینیکل انجینئر بنایا تھا۔

ریحان جب پڑھ لکھ کر شہر کا ایک بہت بڑا انڈسٹریلٹ اور فیکٹری کا مالک بن گیا اور اس کے پاس مہنگی ترین لگژری گاڑیاں، عالیشان بنگلے اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنے نابینا باپ کے اس گھڑی ساز والے پس منظر اور چھوٹی سی دکان کو اپنی شان کے خلاف سمجھ کر مکمل طور پر دل سے نکال دیا۔ شروع میں کبھی کبھار منشی کے ذریعے کچھ رقم بھیج دی جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ بابا سلیم ہر روز صبح دکان کھولتا، اپنی انگلیوں سے ایک پرانی گھڑی کے پرزے ٹٹولتا، اور اس کی ٹک ٹک سن کر اس امید پر دروازے کی طرف دیکھتا کہ شاید اس کا ریحان کبھی اس دکان پر لوٹ کر آئے اور کہے کہ بابا میں آ گیا ہوں۔ وہ ایک خاص جیبی گھڑی کو ہمیشہ اپنے سینے سے لگائے رکھتا تھا کیونکہ ریحان نے بچپن میں پہلی بار اسی گھڑی کی چابی بھری تھی۔

ایک سرد اور تنہا شام، جب باہر تیز طوفان چل رہا تھا اور دکان کی چھت سے پانی ٹپک رہا تھا، بابا سلیم کی طبیعت اسی تاریک دکان میں اچانک شدت سے بگڑ گئی۔ اس کے پاس اس وقت پانی کا ایک گھونٹ دینے والا بھی کوئی نہیں تھا، اور اس کے منہ سے صرف "ریحان..." کا آخری نام نکل رہا تھا۔ پاس کے ایک دکاندار نے جب بڑی مشکل سے ریحان کے پرسنل نمبر پر ایمرجنسی کال ملائی، تو ریحان ایک بزنس میٹنگ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ مصروف تھا، اس نے فون اٹھاتے ہی غصے سے جھنجھلا کر کہا: "मुझे ان نابینا پن اور پرانی گھڑیوں کے قصوں کے لیے بار بار ڈسٹرب مت کریں، جو بھی تدفین کا خرچہ ہے وہ میرے اکاؤنٹ سے لے لیں!" اور فون کاٹ دیا۔ اس ایک بے حس جملے نے بابا سلیم کے دل کی آخری ٹک ٹک کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔

دو دن بعد جب ریحان کا بھیجا ہوا ایک کارندہ بابا سلیم کی وہ دکان صاف کرنے آیا، تو اس نے میز پر رکھی ہوئی اسی پرانی جیبی گھڑی اور بابا سلیم کے ٹٹولتے ہاتھوں کے لکھے ہوئے نقوش والا ایک خط اٹھایا۔ جب ریحان کو وہ سامان ملا اور اس نے اپنے عالیشان دفتر کے کیبن میں بیٹھ کر اس خط کو کسی طرح پڑھوایا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے ریحان، میں نے ساری زندگی لوگوں کا وقت ٹھیک کرنے کے لیے اپنی بینائی کی سوئیاں روکے رکیں... سوچا تھا میرا بیٹا کبھی لوٹے گا تو اس گھڑی کا وقت ٹھیک کروں گا۔ تو جہاں بھی رہے، سلامت رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی ریحان کے پیروں تزمین نکل گئی، اس کی چکاچوند دنیا ایک لمحے میں تاریک ہو گئی، وہ اپنی مہنگی گاڑی اور فیکٹری کو وہیں چھوڑ کر فوری طور پر پرانے بازار کی طرف دوڑا، سیدھا اس دکان میں گیا جہاں اس کا باپ مٹی کی آغوش میں جا چکا تھا، وہ اس پرانی گھڑی اور دکان کی میز سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس کی تمام دولت اور وقت دھرے کے دھرے رہ گئے، مگر اب وہ نابینا باپ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکا تھا اور دنیا کی کوئی گھڑی اس کا گزرا ہوا وقت واپس نہیں لا سکتی تھی۔

Post a Comment

0 Comments