Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 9

پرانی گھڑی اور باپ کا انتظار

وقت کے ٹکڑے اور ماں جیسی باپ کی ممتا

باپ کے ترستے ہاتھ اور شہر کی بے حس دنیا

زندگی بعض اوقات ہمیں ایسے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہمارے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود روح بالکل خالی رہ جاتی ہے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے گھڑی ساز بابا دین محمد کی، جو بازار کے ایک کونے میں بیٹھ کر ٹوٹے ہوئے وقت کو جوڑنے کا کام کیا کرتا تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا، بلال، جسے اس نے اپنی تنگی، غربت اور دن رات کی سخت محنت کے باوجود شہر کے سب سے بڑے کالج میں پڑھایا تھا۔ بابا دین محمد کا بس ایک ہی خواب تھا کہ اس کا بیٹا بڑا افسر بنے اور اس کی زندگی کی ساری مشقتیں رائیگاں نہ جائیں۔ بلال نے بھی اپنے باپ کے اس خواب کو پورا کیا اور پڑھ لکھ کر شہر میں ایک بہت بڑا مینیجر بن گیا۔

شہر کی چکاچوند اور اونچی عمارتوں میں جا کر بلال اپنے بوڑھے باپ کو آہستہ آہستہ بھول گیا۔ شروع میں فون پر ہفتے میں ایک بار بات ہوتی تھی، پھر مہینے میں، اور پھر یہ رابطہ بالکل ہی ختم ہو گیا۔ بابا دین محمد ہر روز دکان کے باہر پرانے لکڑی کے تختے پر بیٹھ کر آنے جانے والے ہر شخص کو دیکھتا، اس امید پر کہ شاید اس کا بیٹا اسے ملنے آ جائے۔ وہ ہر عید پر ایک نئی گھڑی تیار رکھتا کہ بلال آئے گا تو اسے تحفے میں دے گا، مگر اس کی دکان کے دروازے پر صرف گرد اور تنہائی ہی دستک دیتی تھی۔ بابا دین محمد نے اپنے بیٹے کو کئی خط لکھے، مگر ایک کا بھی جواب نہیں آیا کیونکہ بلال کے لیے وہ پرانے خط اب کسی اہمیت کے حامل نہیں رہے تھے۔

برسوں بیت گئے، بابا دین محمد کی بینائی کمزور ہو گئی اور صحت بھی دن بہ دن گرتی گئی۔ ایک دن سردی کی رات تھی، جب سینے میں اٹھنے والے شدید درد نے ان کی سانسوں کو جکڑ لیا۔ آخری وقت میں انہوں نے اپنے ایک پڑوسی کو بلا کر ایک خط بلال کے نام لکھوایا اور کہا کہ یہ میری امانت میرے بیٹے تک پہنچا دینا۔ اگلے ہی دن بابا دین محمد کی میت اسی پرانے دکان کے کونے میں رکھی تھی جہاں انہوں نے اپنی پوری جوانی گزار دی تھی۔ پڑوسیوں نے بڑی مشکل سے نمبر تلاش کر کے بلال کو اطلاع دی کہ اس کے باپ کا انتقال ہو چکا ہے۔

بلال جب اگلی صبح اپنی قیمتی گاڑی میں بیٹھ کر دکان پر پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ چہرے پر اس بات کی شکن تھی کہ اس کا ضروری آفس کا وقت ضائع ہو رہا ہے۔ جب وہ اپنے باپ کی چھوٹی سی کوٹھری میں داخل ہوا، تو میز پر وہی پرانا خط اور ایک چمچماتی ہوئی گھڑی رکھی تھی۔ اس نے بے دلی سے لفافہ کھولا اور پڑھنا شروع کیا: "میرے پیارے بیٹے بلال، مجھے معلوم ہے تم بہت مصروف ہو، اور اب تم میرے جیسے بوڑھے آدمی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ میں صرف تمہیں ایک بار اپنے آخری وقت میں دیکھنا چاہتا تھا، تاکہ تمہیں بتا سکوں کہ تم ہی میری کائنات تھے۔ خیر، جہاں بھی رہو خوش رہو، اس بوڑھے باپ کی دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔"

خط کے آخری الفاظ پڑھتے ہی بلال کے ہاتھ کانپ اٹھے۔ اس کی نظریں میز پر رکھے اس تحفے پر پڑیں جو اس کے باپ نے برسوں سے سنبھال رکھا تھا۔ اس کے اندر کا سارا غرور اور تکبر ایک ہی لمحے میں ریزہ ریزہ ہو گیا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اپنے باپ کے بے جان پیروں سے لپٹ کر معافی مانگنے لگا، مگر اب وقت بہت آگے نکل چکا تھا اور وہ ہمیشہ کے لیے مٹی کے نیچے سو چکے تھے۔ یہ کہانی ہمیں یہ دردناک سبق دیتی ہے کہ والدین کی قدر ان کی زندگی میں ہی کر لو، کیونکہ ان کے جانے کے بعد دنیا کا سارا سونا بھی ان کی ایک دعا کی قیمت ادا نہیں کر سکتا۔

کہانی کا نام: پرانی گھڑی اور باپ کا انتظار

ہیرو: بابا دین محمد (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: بلال (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments