Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 9

آخری خط اور ریلوے اسٹیشن کا مسافر

پٹڑیوں پر بکھری یادیں اور خاموش آنسو

باپ کی تپتی آنکھیں اور شہر کی بے حس دنیا

زندگی بعض اوقات انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں خواہشیں دم توڑ دیتی ہیں اور صرف پچھتاوے باقی رہ جاتے ہیں۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے ریلوے اسٹیشن ماسٹر چاچا اسلم کی، جو اپنی پوری زندگی مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچاتے رہے، مگر خود تقدیر کے ایک ایسے موڑ پر اکیلے رہ گئے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ چاچا اسلم کا ایک ہی بیٹا تھا، حماد، جسے انہوں نے اپنی تنگی اور غربت کے باوجود شہر کے سب سے بڑے کالج میں پڑھایا تھا۔ ان کا خواب تھا کہ ان کا بیٹا بڑا افسر بنے اور ان کا نام روشن کرے، اور حماد اس خواب پر پورا اترتے ہوئے شہر میں ایک بڑا بزنس مین بن گیا۔

شہر کی چکاچوند اور اونچی عمارتوں میں جا کر حماد اپنے بوڑھے باپ کو آہستہ آہستہ بھول گیا۔ شروع میں فون پر ہفتے میں ایک بار بات ہوتی تھی، پھر مہینے میں، اور پھر یہ سلسلہ بالکل ہی ختم ہو گیا۔ چاچا اسلم ہر روز شام کو اسٹیشن کے پرانے بینچ پر بیٹھ کر آنے والی ہر ٹرین کو دیکھتے، اس امید پر کہ شاید اس ٹرین سے ان کا بیٹا انہیں لینے آیا ہو۔ وہ ہر عید پر مٹھائی کا ڈبہ تیار رکھتے کہ حماد آئے گا، مگر دروازے پر صرف ہوا کے جھونکے ہی دستک دیتے تھے۔ چاچا اسلم نے اپنے بیٹے کو کئی خط لکھے، مگر ایک کا بھی جواب نہیں آیا کیونکہ حماد کے لیے وہ پرانے خط اب اہمیت کھو چکے تھے۔

برسوں بیت گئے، چاچا اسلم کی صحت دن بہ دن گرتی گئی۔ ایک دن شدید سردی کی رات تھی، جب سینے میں اٹھنے والے درد نے ان کی سانسوں کو جکڑ لیا۔ آخری وقت میں انہوں نے اپنے ایک ساتھی ملازم کو بلا کر ایک خط حماد کے نام لکھوایا اور کہا کہ یہ میرے جیتے جی میرے بیٹے تک پہنچا دینا۔ اگلے ہی دن چاچا اسلم کی میت اسی پرانے اسٹیشن کے کمرے میں رکھی تھی جہاں انہوں نے اپنی پوری جوانی گزار دی تھی۔ پڑوسیوں نے بڑی مشکل سے نمبر تلاش کر کے حماد کو اطلاع دی کہ اس کے باپ کا انتقال ہو چکا ہے۔

حماد جب اگلی صبح مہنگی گاڑی میں بیٹھ کر اسٹیشن پہنچا، تو اس کے باپ کی ارتھی اٹھنے والی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ چہرے پر اس بات کی شکن تھی کہ اس کا قیمتی وقت ضائع ہو گیا۔ جب وہ اپنے باپ کے کمرے میں داخل ہوا، تو میز پر وہی پرانا خط رکھا ملا جس پر اس کا نام لکھا تھا۔ اس نے بے دلی سے لفافہ کھولا اور پڑھنا شروع کیا: "میرے پیارے بیٹے حماد، مجھے معلوم ہے تم بہت مصروف ہو، اور اب تم میرے جیسے بوڑھے آدمی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ میں صرف تمہیں ایک بار اپنی آخری سانسوں میں دیکھنا چاہتا تھا، تاکہ تمہیں بتا سکूं کہ تم میری دنیا تھے۔ خیر، تم جہاں بھی رہو خوش رہو، تمہاری اس غریب باپ کی دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔"

خط کے آخری الفاظ پڑھتے ہی حماد کے ہاتھ کانپ اٹھے۔ اس کی نظریں کمرے میں رکھی اس پرانے مٹھائی کے ڈبے اور عید کے کپڑوں پر پڑیں جو اس کے بوڑھے باپ نے برسوں سے سنبھال رکھے تھے۔ اس کے اندر کا سارا غرور ایک ہی لمحے میں ریزہ ریزہ ہو گیا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اپنے باپ کے بے جان پیروں سے لپٹ کر معافی مانگنے لگا، مگر اب وقت بہت آگے نکل چکا تھا اور وہ مٹی کے نیچے سو چکے تھے۔ یہ کہانی ہمیں یہ دردناک سبق دیتی ہے کہ والدین کی قدر ان کی زندگی میں کر لو، کیونکہ ان کے جانے کے بعد دنیا کا سارا سونا بھی ان کی ایک دعا کی قیمت ادا نہیں کر سکتا۔

کہانی کا نام: آخری خط اور ریلوے اسٹیشن کا مسافر

ہیرو: چاچا اسلم (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: حماد (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments