Urdu Khaniya - Digital Kahani - Kahani no 63

دھندلا آئینہ اور بوڑھا چہرہ

ٹوٹا ہوا فریم اور پرانی دیوار

باپ کی تھکی نگاہیں اور بیٹے کی چکاچوند دنیا

زندگی انسان کو کامیابی کے اس بلند ترین مقام پر پہنچا دیتی ہے جہاں وہ دنیا بھر کے شاندار اور قیمتی آئینے تو خرید لیتا ہے، مگر اس بوڑھے باپ کے چہرے کی وہ جھریوں والی سچائی بھول جاتا ہے جس نے اپنی جوانی کو تیاگ کر اس کا مستقبل سنوارا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے بابا کرم دین کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال کمرے میں لکڑی کے فریم والے ایک پرانے اور دھندلے آئینے کے سامنے اکیلا وقت گزارتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا سجاد تھا، جسے بابا کرم دین نے لوگوں کی دکانوں پر مشقت کر کے، خود سردی کی راتوں میں ٹھٹھر کر اور ایک ایک پائی جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

سجاد جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ اور اس کے اس غریبانہ آئینے کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ بابا کرم دین ہر روز شام کو اسی پرانے آئینے کے سامنے بیٹھ جاتے، اس میں اپنا دھندلا چہرہ دیکھتے اور اس امید پر سڑک کی طرف نگاہیں ٹکائے رکھتے کہ شاید ان کا سجاد کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس آئینے کو اس لیے صاف کرتے رہتے تاکہ جب ان کا بیٹا آئے تو وہ اس میں اپنا بچپن دیکھ سکے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ بابا کرم دین کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کے مہمان ہیں۔ سجاد جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ سجاد کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب سجاد نے اپنے باپ کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے آئینے کے پیچھے لٹکے ہوئے ایک لفافے پر اس کی نظر پڑی۔ جب اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ خط کھولا تو اس میں بابا کرم دین کے لرزتے ہوئے الفاظ تحریر تھے: "میرے پیارے بیٹے سجاد، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس آئینے میں روز تیرا انتظار کیا ہے کہ شاید میرا بیٹا لوٹ آئے۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی سجاد کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے آئینے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ چہرہ ہمیشہ کے لیے مٹی میں چھپ چکا تھا۔

کہانی کا نام: دھندلا آئینہ اور بوڑھا چہرہ

ہیرو: بابا کرم دین (بے لوث محبت اور صبر کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: سجاد (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments