روٹی کا ٹکڑا اور ماں کا انتظار
مٹی کا چولہا اور کچی دیواریں
ماں کے سوکھے ہونٹ اور بیٹے کی رنگین دنیا
زندگی جب انسان کو کامیابی کی ایسی معراج پر پہنچا دیتی ہے جہاں وہ دنیا بھر کے پرتعیش کھوانے اور رنگین محفلوں کا مالک بن جاتا ہے، تو وہ اکثر اپنی اس ماں کو بھول جاتا ہے جس نے خود سوکھا ٹکڑا کھا کر اسے پیٹ بھر کر کھلایا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی عنایت بی بی کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال اور کچے مکان میں مٹی کے ایک پرانے چولہے کے پاس اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا وقار تھا، جسے مائی عنایت بی بی نے لوگوں کے گھروں میں مشقت کر کے، خود بھوکے پیٹ سو کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔
وقار جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار فلیٹ، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانے چولہے کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی عنایت بی بی ہر روز شام کو اسی پرانے چولہے کے پاس بیٹھ جاتی، اپنے سوکھے ہاتھوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا لپیٹ کر رکھتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا وقار کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس ٹکڑے کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ جب اس کا بیٹا آئے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے کھلا سکے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی عنایت بی بی کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ وقار جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ وقار کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔
جب وقار نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے چولہے کے پاس رکھے اسی روٹی کے سوکھے ٹکڑے پر اس کی نظر پڑی، جس کے ساتھ ایک کاغذ پر مائی عنایت بی بی کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر بندھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے وقار، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے تیرے لیے یہ روٹی کا ٹکڑا سنبھال کر رکھا تھا کہ میرا بیٹا بھوکا نہ ہو۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی وقار کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس سوکھے ٹکڑے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ماں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔
کہانی کا نام: روٹی کا ٹکڑا اور ماں کا انتظار
ہیرو: مائی عنایت بی بی (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: وقار (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.