مٹی کے کھلونے اور بچپن کی خوشبو
پرانے کونے اور ادھورے خواب
ماں کے کانپتے ہاتھ اور بیٹے کی چکاچوند دنیا
زندگی انسان کو کامیابی کی ایسی اونچائیوں پر پہنچا دیتی ہے جہاں وہ دنیا بھر کے قیمتی ترین نوادرات تو خرید لیتا ہے، مگر اپنے بچپن کے ان سستے اور مٹی کے کھلونوں کو بھول جاتا ہے جن سے کھیل کر اس نے ہنسنا سیکھا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی رشیدہ کی، جو گاؤں کے ایک خسته حال مکان میں مٹی کے بنے ہوئے کچھ ٹوٹے پھوٹے کھلونوں کے ساتھ اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا تنویر تھا، جسے مائی رشیدہ نے لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھ کر، خود کچی مٹی پر سو کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔
تنویر جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار فلیٹ، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس کے ان مٹی کے کھلونوں کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی رشیدہ ہر روز شام کو انہی مٹی کے کھلونوں کو اپنے بستر کے پاس سجا لیتی، انہیں دیکھ کر اپنے بیٹے کے بچپن کی یادیں تازہ کرتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا تنویر کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ ان کھلونوں کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ اسے اپنے بیٹے کی معصومیت یاد رہے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی رشیدہ کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ تنویر جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ تنویر کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔
جب تنویر نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے بستر کے پاس رکھے انہی مٹی کے کھلونوں پر اس کی نظر پڑی، جن کے ساتھ ایک کاغذ پر مائی رشیدہ کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر بندھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے تنویر، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے تیرے بچپن کی یہ نشانی اس لیے سنبھال رکھی تھی کہ میرا دل تجھ سے جڑا رہے۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی تنویر کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ ان مٹی کے کھلونوں سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ بچپن ہمیشہ کے لیے مٹی میں مل چکا تھا۔
کہانی کا نام: مٹی کے کھلونے اور بچپن کی خوشبو
ہیرو: مائی رشیدہ (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: تنویر (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.