Urdu Khaniya - Digital Kahani - Kahani no 59

شام کی آہٹ اور پرانا دروازہ

دھندلے راستے اور انتظار کی گھڑیاں

ماں کی کمزور آنکھیں اور بیٹے کی بے حس دنیا

زندگی انسان کو کامیابی کے ایسے درجے پر فائز کر دیتی ہے جہاں وہ دنیا بھر کے نئے قلعے تعمیر کر لیتا ہے، مگر ان پرانے دروازوں کو بھول جاتا ہے جن کی چوکھٹ پر بیٹھ کر کسی نے اس کے لوٹ آنے کا رستہ دیکھا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی عنایت بی بی کی، جو گاؤں کے ایک ویران سے گھر میں لکڑی کے ایک پرانے اور دیمک زدہ دروازے کے پاس اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا ارسلان تھا، جسے مائی عنایت بی بی نے لوگوں کے کھیتوں میں دن رات مزدوری کر کے، خود سردی کی راتوں میں ٹھٹھر کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

ارسلان جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانے دروازے کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی عنایت بی بی ہر روز شام کو اسی پرانے دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھ جاتی، اپنی کمزور آنکھوں سے سڑک کی طرف دیکھتی رہتی اور اس امید پر انتظار کرتی کہ شاید اس کا ارسلان کبھی اپنے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس دروازے کی کنڈی کو کھلا رکھتی تاکہ اس کا بیٹا جب بھی آئے اسے تکلیف نہ ہو، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی عنایت بی بی کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ ارسلان جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ ارسلان کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب ارسلان نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اسی پرانے دروازے کے پیچھے لٹکی ہوئی ایک پرانی چابی پر اس کی نظر پڑی، جس کے ساتھ ایک کاغذ پر مائی عنایت بی بی کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر بندھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے ارسلان، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے زندگی بھر اس دروازے کو کھلا رکھا کہ شاید میرا بیٹا لوٹ آئے۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی ارسلان کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے دروازے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا تھا۔

کہانی کا نام: شام کی آہٹ اور پرانا دروازہ

ہیرو: مائی عنایت بی بی (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: ارسلان (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments