ریڈیو کا پرانا گیت اور تنہائی
مٹی کی آوازیں اور خاموش کمرہ
باپ کا ٹوٹا ریڈیو اور بیٹے کی چکاچوند دنیا
زندگی انسان کو کامیابی کے ایسے مقام پر لے جاتی ہے جہاں وہ دنیا بھر کے نئے ساز و سامان تو اکٹھے کر لیتا ہے، مگر اپنے ماضی کے ان ساتھیوں کو بھول جاتا ہے جنہوں نے اس کی تنہائی کے ہر لمحے کو بانٹا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے بابا عنایت کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال مکان میں لکڑی کے ایک پرانے اور بیٹری سے چلنے والے ریڈیو کے ساتھ زندگی کاٹ رہا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا ریحان تھا، جسے بابا عنایت نے لوگوں کی دکانوں پر مزدوری کر کے، خود بھوکے پیٹ سو کر اور ایک ایک پائی جوڑ کر شہر کے اعلیٰ تعلیمی ادارے سے پڑھا لکھا کر انجینئر بنایا تھا۔
ریحان جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار فلیٹ، قیمتی گاڑیاں اور مہنگے ترین آڈیو سسٹمز آ گئے، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ اور اس کے اس پرانے ریڈیو کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ بابا عنایت ہر روز شام کو اسی پرانے ریڈیو کو چلا کر بیٹھ جاتے، اس کی مدہم آواز میں پرانے گیت سنتے اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتے رہتے کہ شاید ان کا ریحان انہیں دیکھنے آ جائے۔ وہ اس ریڈیو کو اس لیے سنبھالے رکھتے تھے تاکہ انہیں اپنے بیٹے کی بچپن کی وہ راتیں یاد رہیں جب وہ دونوں ساتھ مل کر گیت سنا کرتے تھے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ بابا عنایت کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کے مہمان ہیں۔ ریحان جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ ریحان کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔
جب ریحان نے اپنے باپ کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو میز پر رکھے اسی پرانے ریڈیو پر اس کی نظر پڑی، جس کے ساتھ ایک کاغذ پر بابا عنایت کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر بندھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے ریحان، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے اس پرانے ریڈیو کی آواز میں ہمیشہ تیرا انتظار کیا ہے، تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی ریحان کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے ریڈیو سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ریڈیو ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکا تھا۔
کہانی کا نام: ریڈیو کا پرانا گیت اور تنہائی
ہیرو: بابا عنایت (بے لوث محبت اور صبر کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: ریحان (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.