لوہے کی چھڑی اور سہاروں کا سفر
کمزور قدم اور ادھوری راہیں
باپ کی پرانی چھڑی اور بیٹے کی شاہانہ دنیا
کامیابی کی دوڑ جب انسان کے سر چڑھ جاتی ہے تو وہ اکثر اس چھڑی کو بھول جاتا ہے جس کے سہارے اس نے زندگی کے مشکل ترین راستے طے کیے تھے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے بابا منظور کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال مکان میں لکڑی کی ایک پرانی اور گھسی ہوئی چھڑی کے سہارے چلا کرتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا فواد تھا، جسے بابا منظور نے لوگوں کے کھیتوں میں دن رات مزدوری کر کے، خود کمر کی تکلیف میں مبتلا ہو کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔
فواد جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار فلیٹ، قیمتی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ اور اس کی اس پرانی چھڑی کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ بابا منظور ہر روز شام کو اپنے دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھ جاتے، اسی پرانی چھڑی کو اپنے سینے سے لگائے رکھتے اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتے رہتے کہ شاید ان کا فواد انہیں دیکھنے آ جائے۔ وہ اس چھڑی کو اس لیے سنبھالے رکھتے تھے تاکہ جب ان کا بیٹا آئے تو وہ اس کا بوجھ بننے کے بجائے خود اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ بابا منظور کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کے مہمان ہیں۔ فواد جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ فواد کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔
جب فواد نے اپنے باپ کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، তো کونے میں رکھی اسی پرانی چھڑی پر اس کی نظر پڑی، جس کے ساتھ ایک کاغذ پر بابا منظور کے کانپتے ہاتھوں کی لرزتی ہوئی تحریر بندھی تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے فواد، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا مقام پایا ہے۔ میں نے زندگی بھر اس چھڑی کے سہارے تیرا راستہ دیکھا ہے، تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی فواد کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانی چھڑی سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ سہارا ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔
کہانی کا نام: لوہے کی چھڑی اور سہاروں کا سفر
ہیرو: بابا منظور (بے لوث محبت اور صبر کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: فواد (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.