روئی کا تکیا اور پرانی یادیں
سرد راتیں اور ادھوری نینیدیں
ماں کے کانپتے ہاتھ اور بیٹے کی سنگدل دنیا
زندگی جب انسان کو کامیابی کی معراج پر پہنچاتی ہے تو وہ اکثر اپنے ماضی کے ان تمام بستروں کو بھول جاتا ہے جن پر جاگ کر اس نے اپنا مستقبل روشن کیا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی حمیرا کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال کمرے میں روئی کے ایک پرانے اور پھٹے ہوئے تکیے پر سر رکھ کر سویا کرتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا وقاص تھا، جسے مائی حمیرا نے لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھ کر، خود گردن کے درد اور تکلیف میں مبتلا ہو کر اور ایک ایک پائی جوڑ کر شہر کے اعلیٰ تعلیمی ادارے سے پڑھا لکھا کر انجینئر بنایا تھا۔
وقاص جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار بنگلہ، قیمتی گاڑیاں اور مہنگے فوم والے گدّے آ گئے، तो اس نے اپنی ماں کے اس پرانے تکیے اور اس کے غریب گھر کو بالکل فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ مائی حمیرا ہر رات اسی پرانے تکیے پر سر رکھ کر اپنے بیٹے کی سلامتی کی دعائیں مانگتی، آنسو بہاتی اور اس امید پر دروازے کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا وقاص اسے دیکھنے آ جائے، مگر مہینے اور سال بیت گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ایک ہسپتال کا فون آیا کہ مائی حمیرا کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ وقاص جب اگلے دن اپنی لگژری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ وقاص کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔
جب وقاص نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس پرانے بستر پر رکھے اسی پھٹے ہوئے تکیے پر اس کی نظر پڑی، جس کے اندر سے ایک پرانی ڈائری اور چند سکے نکلے۔ جب اس نے کانپتے ہاتھوں سے ڈائری کھولی تو اس میں مائی حمیرا کی لرزتی ہوئی تحریر تھی: "میرے پیارے بیٹے وقاص، مجھے فخر ہے کہ تو نے دنیا میں بڑا نام کمایا ہے۔ میں نے اس پرانے تکیے پر سر رکھ کر ہمیشہ تیرے آرام کی دعائیں مانگی ہیں۔ تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی وقاص کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے تکیے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ سر ہمیشہ کے لیے سو چکا تھا۔
کہانی کا نام: روئی کا تکیا اور پرانی یادیں
ہیرو: مائی حمیرا (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: وقاص (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.