Urdu Khaniya - Digital Kahani - Kahani no 52

شام کا سایہ اور ماں کی چوکھٹ

ڈوبتا سورج اور انتظار کی راہیں

ماں کی دھندلی آنکھیں اور بیٹے کی رنگین دنیا

زندگی انسان کو کامیابی کی ایسی چوٹی پر پہنچا دیتی ہے جہاں وہ اپنے ماضی کے ان سہاروں کو فراموش کر دیتا ہے جو اس کے اپنے قدموں کو مضبوط کرنے کے لیے خود ٹوٹ گئے تھے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی جان کی، جو گاؤں کے ایک ویران سے گھر میں اکیلا رہتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا عاصم تھا، جسے مائی بی بی جان نے لوگوں کے کھیتوں میں دن رات مشقت کر کے، خود بھوکے پیٹ سو کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

عاصم جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں اور اس کے اس غریبانہ گھر کو بالکل بھلا دیا۔ شروع میں چند مہینے فون پر خیریت دریافت ہوتی رہی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ مائی بی بی جان ہر روز شام کو اپنے دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھ جاتی، اسی پرانے راستے کی طرف دیکھتی رہتی اور اس امید پر انتظار کرتی کہ شاید ان کا عاصم لوٹ آئے۔ وہ دروازے پر چراغ اس لیے جلاتی تاکہ اس کے بیٹے کو اندھیرے میں گھر کا راستہ مل سکے، مگر مہینے اور سال گزر گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی جان کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ عاصم جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ عاصم کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس شہر پہنچ جائے۔

جب عاصم نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو چوکھٹ کے پاس رکھی ایک پرانی تختی پر اس کی نظر پڑی، جس پر مائی بی بی جان کے کانپتے ہاتھوں کی تحریر تھی۔ جب اس نے وہ آخری الفاظ پڑھے تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے عاصم، مجھے خوشی ہے کہ میرا بیٹا اب بہت بڑا آدمی بن گیا ہے۔ میں نے زندگی بھر اس چوکھٹ پر بیٹھ کر تیرا انتظار کیا ہے، تو جہاں بھی رہے، شاد رہے۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی عاصم کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس چوکھٹ سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا تھا۔

کہانی کا نام: شام کا سایہ اور ماں کی چوکھٹ

ہیرو: مائی بی بی جان (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: عاصم (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments