ریل گاڑی کی کھڑکی اور سفر
لوہے کی پٹڑی اور دھواں چھوڑتے انجن
باپ کا پرانا سوٹ کیس اور بیٹے کی ائیر پورٹ کی دنیا
زندگی کے سفر میں جب انسان ہوائی جہازوں کے مسافر اور فرسٹ کلاس لاؤنج کا مکین بن جاتا ہے، تو وہ اکثر ان دھکے کھاتی ہوئی عام ریل گاڑیوں کو بھول جاتا ہے جن کے جنرل ڈبے میں بیٹھ کر اس نے زندگی کا پہلا سفر طے کیا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک نامور سول انجینئر دانش کی، جس کی کمپنی نے ملک کا سب سے بڑا پل بنانے کا ٹینڈر جیتا تھا۔ دانش کے والد ماسٹر دلدار ایک ریٹائرڈ ریلوے ماسٹر تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی ایک چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن کے کوارٹر میں گزاری تھی اور راتوں کو ریلوے کی پٹڑیوں کی مرمت کر کے دانش کو بیرون ملک سے پڑھایا تھا۔
دانش جب شہر کا سب سے بڑا بزنس مین بن گیا اور اس کے پاس پرائیویٹ جیٹ اور امپورٹڈ گاڑیاں آ گئیں، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کو شہر کے ایک پرتعیش اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ دیا تاکہ اس کے ہائی پروفائل کلائنٹس اور بزنس پارٹنرز کے سامنے اس کا غریب پس منظر نہ آ سکے۔ ماسٹر دلدار روزانہ اولڈ ایج ہوم کے گیراج میں بیٹھ کر ریلوے کی ٹرینوں کے گزرنے کی آوازیں سنتے اور اپنے بیٹے کے نام کا ٹکٹ ہاتھ میں لیے انتظار کرتے کہ شاید دانش انہیں کبھی اپنے ساتھ گھر لے جانے آئے۔
ایک دن دانش کو سرکاری پراجیکٹ کے سلسلے میں اسی پرانے شہر کے دورے پر جانا پڑا۔ جب اس کی مرسڈیز کار ریلوے پھاٹک پر رکی تو سامنے سے وہی پرانی پسنجر ٹرین گزری۔ اچانک دانش کو اپنا وہ بچپن یاد آ گیا جب وہ اپنے باپ کے کندھے پر بیٹھ کر اسی ٹرین کی کھڑکی سے باہر دنیا دیکھا کرتا تھا۔ اس کے دل میں ایک کسک اٹھی، مگر اس نے خود کو سنبھالا اور فورا میٹنگ کے لیے نکل گیا۔
شام کو جب دانش اولڈ ایج ہوم پہنچا تاکہ اپنے باپ کو محض دکھاوے کے لیے ایک عارضی تحفہ دے سکے، تو اس نے دیکھا کہ ماسٹر دلدار کا کمستر بستر خالی پڑا تھا اور نرس نے آ کر بتایا کہ وہ کچھ دیر پہلے اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ دانش کے ہاتھ سے تحفہ چھوٹ کر گر گیا۔ اس نے جب بستر کے پاس رکھے ہوئے ماسٹر دلدار کے پرانے لکڑی کے سوٹ کیس کو کھولا، تو اس کے اندر اس کے بچپن کا ایک ریلوے کا کھلونا انجن اور ایک خط رکھا تھا۔ خط پر لکھا تھا: "میرے بیٹے دانش، تم نے دنیا کے کتنے ہی ہوائی سفر کیے ہوں گے، مگر مجھے امید ہے تم اپنے بچپن کا وہ پہلا ریلوے کا سفر نہیں بھولے ہو گے جہاں میں نے تمہیں اپنی انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا۔ تم ہمیشہ خوش رہو۔" دانش اولڈ ایج ہوم کے فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور زندگی میں پہلی بار پھوٹ پھوٹ کر رویا، کیونکہ اب وہ پٹڑی ہمیشہ کے لیے خالی ہو چکی تھی جس پر اس کا باپ اس کا انتظار کر رہا تھا۔
کہانی کا نام: ریل گاڑی کی کھڑکی اور سفر
ہیرو: ماسٹر دلدار (بے لوث باپ اور یادوں کا امین)
ولن: مادیت پرستی اور خود غرضی
سائیڈ کردار: دانش (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.