نیا مکان اور ادھوری خوشیاں
مرمرین فرش اور تنہائی کے سائے
ماں کی دعائیں اور بیٹے کی سنگدل دنیا
کامیابی کی دوڑ جب انسان کو اندھا کر دیتی ہے تو وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اس کے محلات کی بنیادوں میں کس بوڑھے کی ہڈیوں کا رس اور کس ماں کے آنسو شامل ہیں۔ یہ کہانی ہے شہر کے ایک نامور صنعت کار زوہیب کی، جو کبھی ایک انتہائی غریب گھرانے کا فرد تھا۔ اس کی ماں بانو بی بی نے اپنی جوانی کی ساری توانائیاں لوگوں کے گھروں میں جھاڑو پونچھا کر کے ختم کر دی تھیں تاکہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے زوہیب کو اعلیٰ تعلیم دلوا سکے۔ زوہیب نے دن رات ایک کر کے امتحانات میں امتیازی نمبر لیے اور پھر ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اونچے عہدے پر فائز ہوتے ہی ارب پتی بن گیا۔
دولت کی اس فراوانی میں زوہیب نے شہر کے پوش علاقے میں ایک شان دار عالیشان بنگلہ خریدا، جس کے دروازے پر سکیورٹی گارڈز پہرہ دیتے تھے۔ جب بانو بی بی کو اس نئے گھر میں لایا گیا تو وہ وہاں کے چمکدار مرمرین فرش اور ائر کنڈیشنڈ کمروں میں گھٹن محسوس کرنے لگیں۔ زوہیب کی بیوی کو اس کی بوڑھی اور ان پڑھ ماں کا حلیہ اور گاؤں کا لہجہ اپنے اونچے معاشرے میں شرمندگی کا سبب لگتا تھا۔ آہستہ آہستہ زوہیب نے اپنی ماں کو بنگلے کے ایک الگ نچلے حصے میں قید کر دیا جہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ بانو بی بی سارا دن اپنی کھڑکی سے باہرلان کی طرف دیکھتی رہتیں اور اپنے بیٹے کی ایک جھلک کے لیے ترستیں، مگر زوہیب کے پاس مہینے میں ایک بار بھی ماں کے کمرے میں جھانکنے کا وقت نہیں تھا۔
ایک شام زوہیب اپنے بزنس پارٹنرز کے ساتھ ایک بڑی پارٹی کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک نچلے حصے سے نوکرانی نے بھاگتے ہوئے آ کر اطلاع دی کہ بانو بی بی کی حالت بہت نازک ہے۔ زوہیب کو غصہ آیا کہ اس اہم موقع پر ماں کو یہ ڈراما نہیں کرنا چاہیے تھا، پھر بھی وہ پیر پٹختے ہوئے نیچے گیا۔ بانو بی بی بستر پر نیم بے ہوش پڑی تھیں، ان کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ انہوں نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ سے اپنے تکیے کے نیچے سے ایک پرانی پوٹلی نکالی اور زوہیب کی ہتھیلی پر رکھ دی۔
زوہیب نے وہ پوٹلی کھولی تو اس میں اس کے بچپن کا ایک پھٹا ہوا کھلونے کا ٹرک اور چند سکّے تھے، ساتھ ہی بانو بی بی کی لرزتی ہوئی آواز ابھری: "بیٹا... میں نے تیرے لیے بڑا محل تو بنوا دیا، مگر اس محل میں میرے لیے تیرا دل بہت چھوٹا نکلا... میں نے تو تجھے اونچا اٹھایا تھا، تو نے مجھے زمین پر گرا دیا۔" اتنا کہنے کے بعد بانو بی بی کا ہاتھ ہمیشہ کے لیے ڈھیلا پڑ گیا اور ان کی روح قفسِ تنہائی سے پرواز کر گئی۔ زوہیب کے پیروں تلے زمین نکل گئی، وہ اربوں روپے کی جائیداد اور بنگلے کے مالک ہونے کے باوجود دنیا کا سب سے غریب انسان بن چکا تھا، کیونکہ اب اس کی دولت اس کی ماں کو واپس نہیں لا سکتی تھی۔
کہانی کا نام: نیا مکان اور ادھوری خوشیاں
ہیرو: بانو بی بی (مظلوم اور قربانی دینے والی ماں)
ولن: اندھی دولت اور غرور
سائیڈ کردار: زوہیب (پچھتانے والا دولت مند بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.