Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 48

پرانا لیمپ اور ماں کی راتیں

روشن آنکھیں اور اندھیرے راستے

ماں کے تھکے ہاتھ اور شہر کی بے حس دنیا

زندگی انسان کو کامیابی کی ایسی دوڑ میں شامل کر دیتی ہے جہاں وہ ان سچی قربانیوں کو فراموش کر دیتا ہے جن کے دیے ہوئے اجالے میں اس نے اپنی منزل کا راستہ دیکھا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی جان کی، جو گاؤں کے ایک ویران سے گھر میں مٹی کے تیل سے جلنے والے ایک پرانے لیمپ کے سائے میں اکیلا وقت گزارتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا عرفان تھا، جسے مائی بی بی جان نے اسی لیمپ کی زرد روشنی میں رات بھر جاگ کر لوگوں کے کپڑے سی کر، خود سردی میں ٹھٹھر کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کی بڑی یونیورسٹی سے افسر بنایا تھا۔

عرفان جب شہر میں ایک بڑا سرکاری افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی اور گاڑیاں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ پس منظر اور اس پرانے لیمپ کو ہمیشہ کے لیے فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی بالکل ختم ہو گیا۔ مائی بی بی جان ہر روز شام کو اسی پرانے لیمپ کو جلا کر دروازے پر بیٹھ جاتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید ان کا بیٹا کبھی اپنے بچپن کے گھر لوٹ آئے۔ وہ اس لیمپ کو اس لیے روشن رکھتی تھی تاکہ اس کے بیٹے کو گھر کا رستہ ڈھونڈنے میں کوئی تکلیف نہ ہو، مگر مہینے اور سال گزر گئے اور بیٹے کا فون تک نہ آیا۔

ایک دن ہسپتال سے فون آیا کہ مائی بی بی جان کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ عرفان جب اگلے دن اپنی سرکاری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ عرفان کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ دل میں صرف یہی بے چینی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب عرفان نے ماں کا وہ چھوٹا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو میز پر رکھے اسی پرانے لیمپ اور اس کے نیچے رکھے ایک لفافے پر اس کی نظر پڑی۔ اس نے جب کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا تو اس میں مائی بی بی جان کے ہاتھ کی لرزتی ہوئی تحریر تھی: "میرے پیارے بیٹے عرفان، مجھے فخر ہے کہ تم نے دنیا میں بڑا مقام پایا۔ میں نے اس پرانے لیمپ کو اس لیے جلائے رکھا کہ میرا بیٹا کبھی اندھیرے میں راستہ نہ بھولے۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی عرفان کے اندر کا سارا غرور اور تکبر پل بھر میں ٹوٹ گیا۔ وہ اس پرانے لیمپ کو سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ چکا تھا۔

کہانی کا نام: پرانا لیمپ اور ماں کی راتیں

ہیرو: مائی بی بی جان (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غرور اور دنیاوی چکاچوند

سائیڈ کردار: عرفان (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments