Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 46

پرانا صندوق اور ماں کی چابی

زنگ آلود تالے اور انتظار کی گھڑیاں

ماں کے کمزور ہاتھ اور بیٹے کی بڑی دنیا

زندگی انسان کو کامیابی کی ایسی دوڑ میں ڈال دیتی ہے جہاں وہ گھر کے دروازے پر بڑے بڑے تالے تو لگا لیتا ہے، مگر اپنوں کے دل پر لگی دوریوں کی دیواروں کو مٹانا بھول جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی جان کی، جو گاؤں کے ایک ویران مکان میں اکیلا رہتی تھی۔ اس کے پاس اپنی پوری جمع پونجی کے طور پر ایک لکڑی کا پرانا صندوق تھا، جس پر ایک بھاری اور زنگ آلود تالا پڑا رہتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا احسان تھا، جسے مائی بی بی جان نے لوگوں کے گھروں میں مشقت کر کے، خود بھوکے پیٹ سو کر اور اپنی ایک ایک ضرورت مار کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

احسان جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار فلیٹ، قیمتی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں اور اس کے اس پرانے گھر کو بالکل بھلا دیا۔ شروع میں چند مہینے فون پر خیریت دریافت ہوتی رہی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ مائی بی بی جان ہر روز شام کو اپنے دروازے پر بیٹھتی، اسی پرانے صندوق کی چھوٹی سی چابی کو اپنے گلے میں پڑے دھاگے سے لگائے رکھتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید ان کا احسان لوٹ آئے۔ وہ اس چابی کو ہمیشہ اپنے پاس سنبھالے رکھتی تھی تاکہ جب اس کا بیٹا آئے تو وہ فوراً صندوق کھول کر اسے اس کا بچپن کا تحفہ دے سکے، مگر سال گزر گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔

ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ مائی بی بی جان کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ احسان جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ احسان کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس شہر پہنچ جائے۔

جب احسان نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو کونے میں رکھے اسی پرانے صندوق پر اس کی نظر پڑی۔ جب اس نے گلے سے وہ چابی اتار کر اس زنگ آلود تالے میں ڈالی، تو تالا کھل گیا۔ صندوق کے اندر اس کے بچپن کے کپڑوں کے ساتھ ایک خط رکھا تھا، جس پر مائی بی بی جان کے کانپتے ہاتھوں کی تحریر تھی۔ جب اس نے وہ آخری خط پڑھا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے احسان، مجھے خوشی ہے کہ میرا بیٹا اب بہت بڑا آدمی بن گیا ہے۔ میں نے یہ چابی مرتے دم تک اپنے گلے سے نہیں اتاری کہ شاید میرا بیٹا کبھی اپنی ماں کے پاس واپس آ جائے۔ تم جہاں بھی رہو، شاد رہو۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی احسان کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے صندوق اور اس چابی سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ صندوق ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا تھا۔

کہانی کا نام: پرانا صندوق اور ماں کی چابی

ہیرو: مائی بی بی جان (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: احسان (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments