پرانا چشمہ اور باپ کی نظر
دھندلے راستے اور پرانے شیشے
باپ کی کمزور آنکھیں اور بیٹے کی روشن دنیا
زندگی انسان کو کامیابی کے ایسے مقام پر لے جاتی ہے جہاں وہ دنیا کی ہر خوبصورتی دیکھ سکتا ہے، مگر اس شخص کی دھندلاتی ہوئی آنکھوں کو نہیں دیکھ پاتا جس نے اپنی بینائی اسے روشن مستقبل دینے کے لیے داؤ پر لگا دی تھی۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے بابا منظور حیدر کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے گھر میں اکیلا رہتا تھا۔ اس کے پاس اپنی جوانی کی واحد نشانی کے طور پر ایک پرانا، ٹیپ لگا ہوا چشمہ تھا، جس کے شیشے جگہ جگہ سے کھردرے ہو چکے تھے۔ اس کا اکلوتا بیٹا تنویر تھا، جسے بابا منظور نے لوگوں کے کھیتوں میں رات دن مشقت کر کے، خود اندھیرے میں ٹھوکریں کھا کر اور اپنی ٹوٹی ہوئی عینک سے ایک ایک لفظ پڑھ کر شہر کی بڑی یونیورسٹی سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔
تنویر جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار فلیٹ، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ اور اس کے اس پرانے چشمے کو بالکل بھلا دیا۔ شروع میں چند مہینے فون پر خیریت دریافت ہوتی رہی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ بابا منظور ہر روز شام کو اپنے دروازے پر بیٹھ کر اسی پرانے چشمے کو کپڑے سے صاف کرتے، اپنی کمزور اور دھندلی آنکھوں سے سڑک کی طرف دیکھتے رہتے اور اس امید پر انتظار کرتے کہ شاید ان کا تنویر انہیں دیکھنے آ جائے۔ وہ اس پرانے چشمے کو اس لیے سنبھالے رکھتے تھے تاکہ جب ان کا بیٹا لوٹے تو وہ اسے صاف دیکھ سکیں، مگر سال گزر گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ بابا منظور کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کے مہمان ہیں۔ تنویر جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ تنویر کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس شہر پہنچ جائے۔
جب تنویر نے اپنے باپ کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو کونے میں رکھی میز پر اسی پرانے ٹیپ لگے چشمے پر اس کی نظر پڑی، جس کے نیچے ایک پرچی رکھی تھی۔ جب اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ تحریر پڑھی تو اس پر بابا منظور کے آخری الفاظ لکھے تھے: "میرے پیارے بیٹے تنویر، مجھے خوشی ہے کہ تم نے دنیا میں بڑا نام کمایا ہے۔ میری آنکھیں تو اب جواب دے چکی ہیں، مگر میں نے دعا کی ہے کہ تمہیں ہمیشہ دنیا کی ہر روشنی اور کامیابی نصیب ہو۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی تنویر کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے چشمے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور اس کے باپ کی دنیا ہمیشہ کے لیے تاریک ہو چکی تھی۔
کہانی کا نام: پرانا چشمہ اور باپ کی نظر
ہیرو: بابا منظور حیدر (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: تنویر (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.