پرانا گھڑیال اور وقت کا پچھتاوا
ٹک ٹک کرتی سوئیاں اور سناٹا
باپ کی کمزور نظریں اور بیٹے کی مصروف دنیا
زندگی انسان کو کامیابی کی ایسی دوڑ میں شامل کر دیتی ہے جہاں وہ وقت کی قیمت تو جان جاتا ہے مگر اپنوں کے لیے وقت نکالنا بھول جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے بابا فیض احمد کی، جو گاؤں کے ایک ویران مکان میں اکیلا رہتا تھا۔ اس کے پاس وقت دیکھنے کے لیے دیوار پر لگا ہوا ایک پرانا لکڑی کا گھڑیال تھا، جس کی سوئیاں اکثر رک جایا کرتی تھیں۔ اس کا اکلوتا بیٹا جمیل تھا، جسے بابا فیض احمد نے لوگوں کی دکانوں پر مزدوری کر کے، خود بھوکے پیٹ سو کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور ادارے سے پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔
جمیل جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار فلیٹ، قیمتی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ اور اس کے اس پرانے گھر کو بالکل بھلا دیا۔ شروع میں چند مہینے فون پر خیریت دریافت ہوتی رہی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ بابا فیض احمد ہر روز شام کو اپنے دروازے پر بیٹھ کر اسی پرانے گھڑیال کی ٹک ٹک سنتے اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتے رہتے کہ شاید ان کا جمیل لوٹ آئے گا۔ وہ اس گھڑیال کو اس لیے دیکھتا رہتا تاکہ اسے پتہ چل سکے کہ اس کے بیٹے کو گھر آئے کتنے سال بیت چکے ہیں، مگر وقت گزرتا گیا اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ بابا فیض احمد کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ اب چند لمحوں کے مہمان ہیں۔ جمیل جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ جمیل کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس شہر پہنچ جائے۔
جب جمیل نے اپنے باپ کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، তো دیوار پر لٹکے اسی پرانے گھڑیال پر اس کی نظر پڑی، جس کے نیچے رکھی ایک پرانی میز پر بابا فیض احمد کے کانپتے ہاتھوں کی تحریر تھی۔ جب اس نے وہ آخری خط پڑھا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے جمیل، میں نے زندگی بھر اس پرانے گھڑیال کے ساتھ تمہارا انتظار کیا ہے۔ وقت بہت تیزی سے گزرتا ہے، بس دعا ہے تم ہمیشہ سلامت رہو۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی جمیل کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے گھڑیال سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور اس کے اپنے ہی زندگی کے گھڑیال سے وقت ہمیشہ کے لیے نکل چکا تھا۔
کہانی کا نام: پرانا گھڑیال اور وقت کا پچھتاوا
ہیرو: بابا فیض احمد (بے لوث محبت اور صبر کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: جمیل (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.