پرانا صندوق اور خطوط کی گٹھڑی
پیلے پڑے کاغذ اور سیاہی کی خوشبو
باپ کی کمزور نظریں اور بیٹے کی بے رخی
کامیابی کی دوڑ میں اکثر انسان اس شخص کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے جس کی اپنی پوری زندگی اس کے راستے کے دیے جلانے میں گزر جاتی ہے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے بابا عنایت اللہ کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے گھر میں اکیلا رہتا تھا۔ اس کے پاس اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی کے نام پر ایک لکڑی کا پرانا صندوق تھا، جس کے اندر اس نے اپنے بیٹے کے بچپن کے کھلونے اور اس کے لکھے ہوئے چند پرانے خط سنبھال رکھے تھے۔ اس کا اکلوتا بیٹا طارق تھا، جسے بابا عنایت اللہ نے لوگوں کے کھیتوں میں دن رات مزدوری کر کے، خود بھوکے رہ کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کی بڑی یونیورسٹی سے انجینئر بنایا تھا۔
طارق جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، مہنگی گاڑیاں اور دنیا بھر کی آسائشیں آ گئیں، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ اور اس کے اس پرانے گھر کو بالکل بھلا دیا۔ شروع میں چند مہینے فون پر بات ہوتی رہی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ بابا عنایت اللہ ہر روز شام کو اپنے دروازے پر بیٹھ کر اسی پرانے صندوق کو کھولتے، اس میں رکھے خطوط کو اپنے سینے سے لگاتے اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتے رہتے کہ شاید ان کا طارق انہیں منانے آ جائے۔ وہ ان خطوط کو اس لیے بار بار پڑھتے تاکہ انہیں یاد رہے کہ ان کا بیٹا ان سے کتنی محبت کرتا تھا، مگر سال گزر گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ہسپتال کا ایک فون آیا کہ بابا عنایت اللہ کی طبیعت انتہائی ناساز ہے اور وہ اب چند لمحوں کے مہمان ہیں۔ طارق جب اگلے دن اپنی لگژری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ طارق کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس شہر پہنچ جائے۔
جب طارق نے اپنے باپ کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو کونے میں رکھے اسی پرانے صندوق پر اس کی نظر پڑی۔ جب اس نے صندوق کھولا تو اس کے اوپر ہی اس کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے وہ پرانے خط رکھے تھے، اور ان کے نیچے بابا عنایت اللہ کے کانپتے ہاتھوں کی تحریر تھی۔ جب اس نے وہ آخری خط پڑھا تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے طارق، مجھے خوشی ہے کہ میرا بیٹا اب بہت بڑا آدمی بن گیا ہے۔ میں نے تیرے یہ خط اس لیے سنبھال رکھے تھے کہ جب بھی تیری یاد آئے، میں انہیں پڑھ کر دل کو تسلی دے لوں۔ تم جہاں بھی رہو، شاد رہو۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی طارق کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے صندوق سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ صندوق ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا تھا۔
کہانی کا نام: پرانا صندوق اور خطوط کی گٹھڑی
ہیرو: بابا عنایت اللہ (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی ہوس
سائیڈ کردار: طارق (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.