پھٹا ہوا بستر اور ماں کی دعائیں
سرد راتیں اور گرم آنسو
ماں کے تھکے ہوئے ہاتھ اور بیٹے کی رنگین دنیا
کامیابی کی دوڑ انسان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیتی ہے کہ اسے اپنے ماضی کے وہ کانٹے نظر نہیں آتے جن پر چل کر اس نے پھولوں کی سیج حاصل کی تھی۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی جان کی، جو گاؤں کے ایک خستہ حال مکان میں لکڑی کی ایک پرانی اور ٹوٹی ہوئی چارپائی پر لیٹا کرتی تھی۔ اس کے پاس اوڑھنے کے لیے صرف ایک پھٹا ہوا روئی کا بستر تھا، جسے وہ سردیوں کی ہر رات میں اپنے اوپر لپیٹ لیا کرتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا ارشد تھا، جسے مائی بی بی جان نے لوگوں کے گھروں میں مشقت کر کے، خود بھوکے رہ کر اور سردی میں ٹھٹھر کر شہر کے اعلیٰ ادارے سے پڑھا لکھا کر بڑا افسر بنایا تھا۔
ارشد جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار کوٹھی، قیمتی گاڑیاں اور دنیا بھر کا سکون آ گیا، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ بستر اور اس کے کچے گھر کو بالکل بھلا دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک آدھ بار فون پر بات ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے منقطع ہو گیا۔ مائی بی بی جان ہر روز رات کو اسی پرانے بستر پر لیٹ کر اپنے بیٹے کی خیریت کی دعائیں مانگتی اور دروازے کی طرف دیکھتی رہتی، اس امید پر کہ شاید اس کا ارشد اسے دیکھنے آ جائے گا۔ وہ اس پھٹے ہوئے بستر کو اس لیے سنبھالے رکھتی تھی تاکہ اس کے بیٹے کو کبھی یہ احساس نہ ہو کہ اس کی ماں نے کتنی تکلیفوں میں دن کاٹے ہیں، مگر سال گزر گئے اور بیٹے کا کوئی پیغام نہ آیا۔
ایک دن شہر سے ایک فون آیا کہ مائی بی بی جان کی طبیعت انتہائی ناساز ہے اور وہ اب چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ ارشد جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ ارشد کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس شہر پہنچ جائے۔
جب ارشد نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو کونے میں رکھے اسی پرانے اور پھٹے ہوئے بستر پر اس کی نظر پڑی، جس کے اندر ایک پرانی ڈائری رکھی تھی۔ جب اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ ڈائری کھولی تو اس میں ماں کے ہاتھ کے لکھے ہوئے یہ الفاظ تھے: "میرے پیارے بیٹے ارشد، مجھے خوشی ہے کہ میرا بیٹا اب اونچی منزلوں پر ہے۔ میں اس پھٹے ہوئے بستر پر سو کر بھی ہمیشہ تمہاری راحت کی دعا کرتی رہی ہوں۔ تم جہاں بھی رہو، شاد رہو۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی ارشد کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس پرانے بستر سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ بستر ہمیشہ کے لیے خالی ہو چکا تھا۔
کہانی کا نام: پھٹا ہوا بستر اور ماں کی دعائیں
ہیرو: مائی بی بی جان (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: ارشد (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.