Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 40

مٹی کا دیا اور باپ کا انتظار

اندھیری رات اور روشنی کی آس

باپ کے تھکے ہوئے ہاتھ اور بیٹے کی بڑی دنیا

زندگی انسان کو کامیابی کی ایسی اونچائی پر لے جاتی ہے جہاں وہ اپنے ان سچے رشتوں کو فراموش کر دیتا ہے جن کی تپش پر اس کا مستقبل سنوارا گیا ہو۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے باپ بابا رحمت کی، جو ایک چھوٹے سے گاؤں کے کچے مکان میں اکیلا رہتا تھا۔ اس کے پاس روشنی کے لیے صرف ایک چھوٹا سا مٹی کا دیا تھا، جسے وہ ہر شام تیل بھر کر روشن کرتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا سلیم تھا، جسے بابا رحمت نے لوگوں کے کھیتوں میں دن رات مزدوری کر کے، خود بھوکے رہ کر اور ایک ایک روپیہ بچا کر شہر کے بڑے ادارے سے اعلیٰ تعلیم دلوا کر ایک بڑا افسر بنایا تھا۔

سلیم جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار مکان، قیمتی گاڑیاں اور دولت آ گئی، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ اور اس کے اس غریب گھر کو بالکل بھلا دیا۔ شروع میں چند مہینے فون پر بات ہوتی رہی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ بابا رحمت ہر روز شام کو اپنے دروازے پر بیٹھ کر وہی مٹی کا دیا جلاتا تھا، اس امید پر کہ شاید اس کا بیٹا اندھیرا ہونے سے پہلے لوٹ آئے گا۔ وہ اس دئیے کو اس لیے روشن رکھتا تھا تاکہ اس کے بیٹے کو گھر کا راستہ ڈھونڈنے میں کوئی دقت نہ ہو، مگر سال گزر گئے اور بیٹے کی کوئی خبر نہ آئی۔

ایک دن شہر سے ایک فون آیا کہ بابا رحمت کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ سلیم جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ سلیم کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہی جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد اپنے دفتر واپس لوٹ جائے۔

جب سلیم نے اپنے باپ کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو کونے میں رکھے اسی مٹی کے دئیے پر اس کی نظر پڑی، جس کے نیچے ایک کاغذ پر کچھ الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ جب اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ تحریر پڑھی تو اس پر لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے سلیم، میں نے زندگی بھر اس دئیے کو جلائے رکھا تاکہ میرا بیٹا اندھیرے میں کبھی نہ بھٹکے۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی سلیم کا سارا غرور ایک لمحے میں خاک ہو گیا، وہ اس مٹی کے دئیے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ دیا ہمیشہ کے لیے بجھ چکا تھا۔

کہانی کا نام: مٹی کا دیا اور باپ کا انتظار

ہیرو: بابا رحمت (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی لالچ

سائیڈ کردار: سلیم (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments