Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 39

پرانا تالا اور ماں کی کنجی

زنگ آلود کنڈی اور انتظار کے دن

ماں کے تھکے ہاتھ اور شہر کی رنگین دنیا

زندگی بعض اوقات ہمیں کامیابی کے اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں ہم اپنے گھر کا دروازہ تو بڑی بڑی قلعہ نما کوٹھیوں پر لگا لیتے ہیں، مگر اپنوں کے دل پر لگے تالے کو نہیں کھول پاتے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی حلیمہ کی، جو گاؤں کے ایک ویران سے گھر کے باہر لکڑی کے دروازے پر پڑا ہوا ایک پرانا، زنگ آلود تالا سنبھال کر رکھتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا ریحان تھا، جسے مائی حلیمہ نے لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھ کر، خود تپتی دھوپ میں ججل کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کی بڑی یونیورسٹی سے افسر بنایا تھا۔

ریحان جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار فلیٹ، نوکر چاکر اور لگژری گاڑیاں آ گئیں، تو اس نے اپنی ماں کے اس غریبانہ گھر اور اس پرانے تالے کو ہمیشہ کے لیے فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی بالکل ختم ہو گیا۔ مائی حلیمہ ہر روز شام کو اسی پرانے تالے کو اپنے کپڑے سے صاف کرتی، دروازے پر کنڈی لگائے بیٹھ جاتی اور اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید اس کا ریحان کبھی لوٹ کر آئے گا۔ وہ تالے کی کنجی ہمیشہ اپنے گلے میں لٹکائے رکھتی تھی تاکہ بیٹا آئے تو دروازہ فوراً کھول سکے۔

ایک دن ہسپتال سے فون آیا کہ مائی حلیمہ کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ ریحان جب اگلے دن اپنی سرکاری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کا وہ پرانا گھر بند پڑا تھا اور گلی کے لوگ اس کی ماں کا جنازہ اٹھانے والے تھے۔ ریحان کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا, بلکہ دل میں صرف یہی بے چینی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب ریحان نے اپنی ماں کا وہ چھوٹا اور ویران کمرہ کھولا، تو اس کی نظر تکیے کے نیچے رکھی ہوئی اسی پرانے تالے کی کنجی اور ایک خط پر پڑی۔ اس نے جب کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا تو اس میں مائی حلیمہ کے ہاتھ کی لرزتی ہوئی تحریر تھی: "میرے پیارے بیٹے ریحان، مجھے فخر ہے کہ تم نے دنیا میں بڑا مقام پایا۔ میں نے اس پرانے تالے کی کنجی مرتے دم تک اپنے گلے سے نہیں اتاری تاکہ میرا بیٹا جب بھی آئے، اسے باہر نہ کھڑا ہونا پڑے۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی ریحان کے اندر کا سارا غرور اور تکبر پل بھر میں ٹوٹ گیا۔ وہ اس کنجی کو سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور تالا ہمیشہ کے لیے لگ چکا تھا۔

کہانی کا نام: پرانا تالا اور ماں کی کنجی

ہیرو: مائی حلیمہ (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)

ولن: غرور اور دنیاوی چکاچوند

سائیڈ کردار: ریحان (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments