پرانا صندوق اور ماں کی چوڑیاں
کانچ کے ٹکڑے اور ادھوری آہیں
ماں کے ہاتھ اور شہر کی چکاچوند دنیا
زندگی بعض اوقات انسان کو کامیابی کے اس آسمان پر لے جاتی ہے جہاں وہ اپنے ماضی کے ان تمام سہاروں کو فراموش کر دیتا ہے جو اس کے اپنے ہاتھوں کے چھالے مٹا کر اسے یہاں تک لائے تھے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی سکینہ بی بی کی، جو گاؤں کے ایک ویران سے گھر میں تنہا رہتی تھی۔ اس کے پاس یادوں کے نام پر صرف ایک پرانا لکڑی کا صندوق تھا، جس کے اندر اس نے اپنی شادی کی چند ٹوٹی پھوٹی کانچ کی چوڑیاں اور اپنے اکلوتے بیٹے کا بچپن کا کرتا سنبھال کر رکھا تھا۔ اس کا بیٹا اسامہ تھا، جسے مائی سکینہ نے لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھ کر، خود بھوکے سو کر اور اپنی ایک ایک نشانی بیچ کر شہر کی بڑی یونیورسٹی سے انجینئر بنایا تھا۔
اسامہ جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس عالیشان کوٹھی، نوکر چاکر اور لگژری گاڑیاں آ گئیں، تو اسے اپنے بوڑھے ماں کا وہ غریبانہ پس منظر اور وہ پرانا صندوق اپنی شان کے خلاف لگنے لگا۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنے گھر والوں سے تمام تعلقات توڑ لیے۔ مائی سکینہ ہر روز شام کو اپنے دروازے پر بیٹھ جاتی، اسی پرانے صندوق کو کھول کر اس کی ٹوٹی ہوئی چوڑیاں دیکھتی اور اس امید پر سڑک کی طرف تکتی رہتی کہ شاید اس کا اسامہ کبھی لوٹ آئے گا۔ وہ ہر آنے جانے والے سے اپنے بیٹے کا پوچھتی، مگر مہینے اور سال گزر گئے اور اسامہ کا فون تک نہ آیا۔
ایک دن ہسپتال سے فون آیا کہ مائی سکینہ کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ اسامہ جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ اسامہ کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ دل میں صرف یہی بے چینی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنی میٹنگ کے لیے واپس پہنچ جائے۔
جب اسامہ نے ماں کا وہ چھوٹا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو اس کی نظر کونے میں رکھے اسی پرانے لکڑی کے صندوق پر پڑی۔ اس نے جب صندوق کھولا تو اس میں اس کے بچپن کے کپڑوں کے ساتھ ایک خط رکھا ملا۔ خط پر مائی سکینہ کے کانپتے ہاتھوں کی تحریر تھی: "میرے پیارے بیٹے اسامہ، مجھے فخر ہے کہ میرا بیٹا اب بڑا آدمی بن گیا ہے۔ میں نے اپنی آخری نشانی یعنی یہ چوڑیاں بھی تمہاری کتابوں کے لیے بیچ دی تھیں، بس اس پرانے صندوق میں تمہارا بچپن سنبھال رکھا تھا۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی اسامہ کے اندر کا سارا غرور اور تکبر پل بھر میں خاک ہو گیا۔ وہ اس پرانے صندوق اور کانچ کی ٹوٹی ہوئی چوڑیوں سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ صندوق ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا تھا۔
کہانی کا نام: پرانا صندوق اور ماں کی چوڑیاں
ہیرو: مائی سکینہ بی بی (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غرور اور دنیاوی چکاچوند
سائیڈ کردار: اسامہ (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.