Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 37

پرانا قلم اور باپ کی ڈائری

سیاہی کے دھبے اور یادوں کے ورق

باپ کے تھکے ہاتھ اور شہر کی رنگین دنیا

زندگی بعض اوقات ہمیں کامیابی کے اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں ہم اپنے ان خطوط اور تحریروں کو بالکل بھول جاتے ہیں جن کی سیاہی سے ہمارے مستقبل کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے کلرک بابا الطاف کی، جو ایک چھوٹے سے قصبے میں کچہری کے باہر بیٹھ کر لوگوں کے پٹیشن اور درخواستیں لکھا کرتا تھا۔ اس کا استعمال شدہ پرانا لکڑی کا قلم اور سیاہی کی دوات اس کی کل کائنات تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا فیضان تھا، جسے بابا الطاف نے دن رات لوگوں کے کاغذات لکھ کر، خود اندھیرے میں بیٹھ کر اور ایک ایک پائی جوڑ کر شہر کے نامور کالج سے قانون کی تعلیم دلوا کر بڑا وکیل بنایا تھا۔

فیضان جب شہر میں ایک نامور وکیل بن گیا اور اس کے پاس عالیشان آفس، بڑی گاڑیاں اور دولت آ گئی، تو اسے اپنے بوڑھے باپ کا یہ پرانا قلم اور کچہری کے باہر بیٹھنا اپنی شان کے خلاف لگنے لگا۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنے باپ سے تمام رشتے توڑ لیے۔ بابا الطاف ہر روز شام کو اپنے دروازے پر بیٹھ کر وہی پرانا قلم ہاتھ میں لیتے اور ایک ٹوٹی ہوئی ڈائری میں اپنے بیٹے کی کامیابی کے دن گنتے رہتے۔ وہ اس امید پر سڑک کی طرف دیکھتے کہ شاید ان کا فیضان کبھی لوٹ آئے گا، مگر مہینے اور سال گزر گئے اور بیٹے کا فون تک نہ آیا۔

ایک دن ہسپتال سے فون آیا کہ بابا الطاف کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ فیضان جب اگلے دن اپنی لگژری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ فیضان کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ دل میں صرف یہی بے چینی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے کورٹ کیسز کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب فیضان نے باپ کا وہ چھوٹا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو میز پر رکھے اسی پرانے قلم اور ایک کھلی ہوئی ڈائری پر اس کی نظر پڑی۔ اس نے جب کانپتے ہاتھوں سے ڈائری کا آخری صفحہ پڑھا تو اس پر بابا الطاف کے لرزتے ہوئے الفاظ تحریر تھے: "میرے پیارے بیٹے فیضان، مجھے فخر ہے کہ تم قانون کی عدالت میں سچ کا ساتھ دیتے ہو۔ میں نے اس پرانے قلم سے زندگی بھر تمہاری فیس اور کتابوں کا خرچ کمایا ہے۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی فیضان کے اندر کا سارا غرور اور تکبر پل بھر میں ٹوٹ گیا۔ وہ اس پرانے قلم اور ڈائری کو سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ قلم ہمیشہ کے لیے رک چکا تھا۔

کہانی کا نام: پرانا قلم اور باپ کی ڈائری

ہیرو: بابا الطاف (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غرور اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: فیضان (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments