Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 36

پرانا ڈھول اور باپ کا گیت

پھٹی ہوئی کھال اور تال کے سائے

باپ کے تھکے ہاتھ اور شہر کی محفلیں

زندگی بعض اوقات ہمیں شہرت کی اس بلندی پر لے جاتی ہے جہاں ہم اپنے ماضی کے ان سازوں کی آواز ہی بھول جاتے ہیں جن کی گونج میں ہم نے پہلا قدم اٹھانا سیکھا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے ڈھولچی بابا کرم الہی کی، جو میلوں اور شادیوں میں لکڑی اور چمڑے سے بنا ایک پرانا ڈھول بجا کر لوگوں کے دل بہلاتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا سجاد تھا، جسے بابا کرم الہی نے راتوں کو جاگ کر، لوگوں کے طعنے سن کر اور خود بھوکے رہ کر شہر کی بڑی یونیورسٹی سے موسیقی کا اعلیٰ درجے کا فنکار بنایا تھا۔

سجاد جب شہر میں ایک مشہور ٹی وی سنگر اور میوزک کمپوزر بن گیا، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ کے اس غریبانہ پیشے اور اس پرانے ڈھول سے منہ موڑ لیا۔ اسے لوگوں کے سامنے یہ بتاتے ہوئے شرم آنے لگی کہ اس کا باپ ایک عام سا گلی محلوں کا ڈھولچی ہے۔ بابا کرم الہی ہر روز شام کو اپنے دروازے پر بیٹھ کر اسی پرانے ڈھول کی تھاپ پر کوئی دھیما سا گیت گاتے اور سڑک کی طرف دیکھتے رہتے، اس امید پر کہ شاید ان کا سجاد کبھی اپنی پرانی مٹی سے ملنے لوٹ آئے گا۔ وہ اس ڈھول کو اس لیے تھپتھپاتے تاکہ ان کے سینے کا درد کم ہو سکے، مگر مہینے اور سال گزر گئے اور بیٹے کا فون تک نہ آیا۔

ایک دن گاؤں سے ایک شخص کا فون آیا کہ بابا کرم الہی کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ سجاد جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ سجاد کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ دل میں صرف یہی بے چینی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر میں اپنے کنسرٹ کے لیے واپس پہنچ جائے۔

جب سجاد نے باپ کا وہ چھوٹا سا اور ویران کمرہ صاف کیا، تو کونے میں رکھے اسی پرانے ڈھول اور اس کے اوپر رکھے ایک لفافے پر اس کی نظر پڑی۔ اس نے جب کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا تو اس میں بابا کرم الہی کے ہاتھ کی لرزتی ہوئی تحریر تھی: "میرے پیارے بیٹے سجاد، مجھے فخر ہے کہ تم نے دنیا میں میرے سُروں کا نام روشن کیا۔ میں نے زندگی بھر یہ پرانا ڈھول بجایا تاکہ تمہیں کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی سجاد کے اندر کا سارا غرور اور تکبر پل بھر میں ٹوٹ گیا۔ وہ اس پرانے ڈھول سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ تھاپ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔

کہانی کا نام: پرانا ڈھول اور باپ کا گیت

ہیرو: بابا کرم الہی (بے لوث محبت اور فن کا پیکر)

ولن: غرور اور دنیاوی چکاچوند

سائیڈ کردار: سجاد (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments