پرانا سلیٹ اور استاد کی دعا
پتھر کی تخٹی اور چاک کی آواز
استاد کے تھکے ہاتھ اور شہر کی رنگین دنیا
زندگی بعض اوقات ہمیں کامیابی کے اس آسمان پر پہنچا دیتی ہے جہاں ہم زمین پر بیٹھے ان بزرگوں کو بالکل بھول جاتے ہیں جن کی انگلی پکڑ کر ہم نے پہلا حرف لکھنا سیکھا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے اسکول ماسٹر بابا عنایت کی، جو گاؤں کے ایک ویران درخت کے نیچے پرانی لکڑی کی میز اور ہاتھ سے بنی سلیٹ پر بچوں کو تخٹی لکھایا کرتا تھا۔ اس کا سب سے ذہین طالب علم بلال تھا، جسے بابا عنایت نے اپنی جیب سے کاپیاں اور چاک خرید کر، خود بھوکے رہ کر اور سردی میں ٹھٹھر کر شہر کے نامور کالج تک پہنچایا تھا تاکہ وہ ایک بڑا افسر بن سکے۔
بلال جب شہر گیا اور اسے ایک بڑی سرکاری نوکری مل گئی، تو اس کی دنیا یکسر بدل گئی۔ اس نے فلیٹس، پروٹوکول اور بڑی گاڑیوں کی چکاچوند میں اپنے بوڑھے استاد اور اس پرانے درخت والے اسکول کو ہمیشہ کے لیے فراموش کر دیا۔ شروع میں مہینے میں ایک بار فون پر خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی بالکل منقطع ہو گیا۔ بابا عنایت ہر روز اسکول کے وقت اسی پرانے سلیٹ پر چاک سے 'الف' لکھتے اور سڑک کی طرف دیکھتے رہتے، اس امید پر کہ شاید ان کا بلال کبھی لوٹ کر آئے گا اور انہیں اپنی کامیابی کی تخٹی دکھائے گا۔
کئی سال گزر گئے، بلال اب ایک بااختیار افسر بن چکا تھا، مگر اس کے پاس اپنے بوڑھے استاد کے لیے دو منٹ کا بھی وقت نہیں تھا۔ ایک دن گاؤں سے ایک شخص کا فون آیا کہ بابا عنایت کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ بلال جب اگلے دن اپنی سرکاری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے استاد کا جنازہ اٹھنے والا تھا اور اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بس دل میں جلدی واپس جانے کی بے چینی تھی۔
جب بلال نے استاد کا وہ چھوٹا سا کمرہ دیکھا، تو میز پر رکھے اسی پرانے سلیٹ اور ایک خط پر اس کی نظر پڑی۔ اس نے جب کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا تو اس میں بابا عنایت کے ہاتھ کی لرزتی ہوئی تحریر تھی: "میرے پیارے بیٹے بلال، مجھے فخر ہے کہ تم نے دنیا میں بڑا مقام پایا۔ میں نے اس پرانے سلیٹ پر ہمیشہ تمہاری کامیابی کی دعا لکھی ہے۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی بلال کا سارا غرور پل بھر میں ٹوٹ گیا۔ وہ اس پرانے سلیٹ کو سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب وقت ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل چکا تھا اور استاد کی خاموشی ہمیشہ کے لیے طویل ہو چکی تھی۔
کہانی کا نام: پرانا سلیٹ اور استاد کی دعا
ہیرو: بابا عنایت (بے لوث محبت اور علم کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی ہوس
سائیڈ کردار: بلال (پچھتانے والا شاگرد)
0 Comments
Thanks for your feedback.