پرانا لیمپ اور ماں کی راتیں
زرد روشنی اور تاریک راستے
ماں کے تھکے ہاتھ اور شہر کی چکاچوند دنیا
زندگی بعض اوقات ہمیں کامیابی کی ایسی بلندی پر پہنچا دیتی ہے جہاں ہم دنیا بھر کی مصنوعی روشنیاں تو سجا لیتے ہیں، مگر اپنوں کی راہ تکتی اس مدھم سی لو کو بجھا بیٹھتے ہیں جس نے ہماری پوری زندگی روشن کی تھی۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی سکندری کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے کمرے میں مٹی کے تیل سے جلنے والا ایک پرانا لالٹین (لیمپ) اپنے پاس رکھتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا سبحان تھا، جسے مائی سکندری نے اسی لیمپ کی زرد روشنی میں رات بھر جاگ کر سلائی کرتے ہوئے، لوگوں کے طعنے سن کر اور خود اندھیرے میں بیٹھ کر شہر کے بڑے کالج سے ڈاکٹر بنایا تھا۔
سبحان جب شہر گیا اور اسے ایک بڑا ہسپتال اور شان دار فلیٹ مل گیا، تو وہ اپنی ماں کی اس غربت اور اس پرانے لیمپ کی روشنی کو بالکل بھول گیا۔ شروع میں فون پر مہینے میں ایک بار بات ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی بالکل ختم ہو گیا۔ مائی سکندری ہر روز شام کو اسی پرانے لیمپ کو جلا کر دروازے کے پاس بیٹھ جاتی، اور اس کی زرد روشنی میں سڑک کی طرف دیکھتی رہتی، اس امید پر کہ شاید اس کا سبحان اس تاریک راستے سے لوٹ آئے گا۔ وہ اس لیمپ کو اس لیے جلاتی تھی تاکہ اس کے بیٹے کو گھر کا رستہ ڈھونڈنے میں کوئی تکلیف نہ ہو، مگر مہینے اور سال گزر گئے اور بیٹے کا فون تک نہ آیا۔
کئی سال گزر گئے، سبحان کے پاس دولت، گاڑی اور سب کچھ آ گیا، مگر اس کے پاس اپنی ماں کے لیے دو منٹ کا وقت نہیں تھا۔ ایک دن گاؤں سے ایک پڑوسی کا فون آیا کہ مائی سکندری کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ سبحان جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا اور اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بس دل میں جلدی واپس جانے کی بے چینی تھی۔
جب سبحان نے ماں کا وہ تاریک کمرہ صاف کیا، تو اس کی نظر میز پر رکھے اسی پرانے لیمپ پر پڑی، جس کے شیشے کے نیچے ایک پرچی رکھی تھی جس میں ماں کے ہاتھ کا آخری پیغام تھا: "میرے پیارے بیٹے سبحان، مجھے معلوم ہے تم بڑے ڈاکٹر بن گئے ہو اور تمہاری دنیا بہت روشن ہے۔ میں نے اس پرانے لیمپ کو اس لیے جلائے رکھا کہ میرا بیٹا کبھی اندھیرے میں راستہ نہ بھولے۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی سبحان کا سارا غرور اور سنگدلی پل بھر میں خاک ہو گئی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اس پرانے لیمپ سے لپٹ کر اپنے پچھتاوے پر ماتم کرنے لگا، مگر اب وقت ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل چکا تھا اور ماں کی زندگی کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ چکا تھا۔
کہانی کا نام: پرانا لیمپ اور ماں کی راتیں
ہیرو: مائی سکندری (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی ہوس
سائیڈ کردار: سبحان (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.