Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 33

پرانا کمبل اور ماں کی آغوش

سرد ہوائیں اور گرم یادیں

ماں کے کانپتے ہاتھ اور شہر کی رنگین دنیا

زندگی بعض اوقات کامیابی کی اس دوڑ میں ہمیں اتنی دور لے جاتی ہے کہ ہم اپنے پاؤں کے نیچے سے اپنوں کا بچھایا ہوا وہ نرم بستر ہی کھینچ لیتے ہیں جس کی گرمی میں ہم نے پلنا سیکھا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی رشیدہ کی، جو سردیوں کی اس رات میں بھی ایک پھٹے ہوئے، جگہ جگہ سے سلے ہوئے پرانے کمبل کو اوڑھ کر چارپائی پر لیٹی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا دانش تھا، جسے مائی رشیدہ نے لوگوں کے گھروں میں کپڑے دھو کر، خود کٹکٹی سردیوں میں ٹھٹھر کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کے نامور کالج سے بڑا افسر بنایا تھا۔

دانش جب شہر گیا اور اسے ایک بڑی کوٹھی اور اے سی والے کمرے مل گئے، تو وہ اپنی ماں کی اس غربت اور اس پرانے رفو شدہ کمبل کو بھول گیا۔ شروع میں فون پر مہینے میں ایک بار بات ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی بالکل ختم ہو گیا۔ مائی رشیدہ ہر سرد رات کو اسی پرانے کمبل کو اپنے سینے سے لگا کر بیٹھ جاتی، اور دروازے کی طرف دیکھتی رہتی، اس امید پر کہ شاید اس کا دانش اسے اس کڑاکے کی سردی میں سنبھالنے آ جائے گا۔ وہ ہر سرد ہوا کے جھونکے کے ساتھ اپنے بیٹے کی خیریت کی دعا مانگتی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کی سانسیں بھی سرد ہونے لگیں۔

کئی سال گزر گئے، دانش کے پاس دولت، گاڑی اور سب کچھ آ گیا، مگر اس کے پاس اپنی ماں کے لیے دو منٹ کا وقت نہیں تھا۔ ایک دن گاؤں سے ایک پڑوسی کا فون آیا کہ مائی رشیدہ کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ دانش جب اگلے دن اپنی شان دار گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا اور اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بس دل میں جلدی واپس جانے کی بے چینی تھی۔

جب دانش نے ماں کا وہ کچا اور سرد کمرہ صاف کیا، تو اس کی نظر کونے میں رکھے اسی پرانے پھٹے ہوئے کمبل پر پڑی، جس کے اندر ایک خط رکھا تھا جس میں ماں کے ہاتھ کا آخری پیغام تھا: "میرے پیارے بیٹے دانش، مجھے معلوم ہے تم بڑے آدمی بن گئے ہو اور تمہارے پاس میرے لیے وقت نہیں ہے۔ میں نے اس پرانے کمبل کی ہر سائیڈ پر تمہاری یادیں سی رکھی ہیں تاکہ مجھے سردی نہ لگے۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی دانش کا سارا غرور اور سنگدلی پل بھر میں برف کی طرح پگھل گئی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اس پرانے کمبل سے لپٹ کر اپنے پچھتاوے پر ماتم کرنے لگا، مگر اب وقت ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل چکا تھا اور ماں کی گرم آغوش ہمیشہ کے لیے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔

کہانی کا نام: پرانا کمبل اور ماں کی آغوش

ہیرو: مائی رشیدہ (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی ہوس

سائیڈ کردار: دانش (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments