Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 33

پرانا ٹرانزسٹر اور بابا کا ریڈیو

دھیمی آوازیں اور ویران چوکھٹ

باپ کی تنہائی اور شہر کی مصروف دنیا

زندگی بعض اوقات ہمیں کامیابی کے اس موڑ پر لے جاتی ہے جہاں ہم اپنے ماضی کے سب سے سچے اور مخلص سہاروں کو شور میں کہیں پیچھے چھوڑ آتے ہیں۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے باپ بابا منظور کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے گھر میں پلاسٹک کے ٹیپ سے جڑا ہوا ایک پرانا ریڈیو (رانزسٹر) اپنے پاس رکھا کرتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا عاصم تھا، جسے بابا منظور نے اپنی زندگی کی تمام جمع پونجی لگا کر، لوگوں کے کھیتوں میں دن رات مزدوری کر کے اور خود پھوکے رہ کر شہر کی بڑی یونیورسٹی سے پڑھا لکھا کر افسر بنایا تھا۔

عاصم جب شہر میں ایک بڑا افسر بن گیا اور اس کے پاس شان دار فلیٹ اور گاڑیاں آ گئیں، تو وہ آہستہ آہستہ اپنے بوڑھے باپ اور اس کے اس پرانے ریڈیو کو بھول گیا۔ بابا منظور ہر روز شام کو اپنے دروازے پر بیٹھ کر وہی پرانا ٹرانزسٹر چلاتے، جس کی دھیمی سی آواز میں وہ خبریں یا پرانے گیت سنتے اور اس امید میں سڑک کی طرف دیکھتے کہ شاید ان کا عاصم چھٹی پر ان سے ملنے آ رہا ہے۔ وہ اس ریڈیو کو اس لیے سنتے تھے تاکہ ان کے گھر کی خاموشی اور تنہائی کا احساس کم ہو سکے، مگر مہینے اور سال گزر جاتے اور بیٹے کا فون تک نہ آتا۔

ایک دن ہسپتال سے فون آیا کہ بابا منظور کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ عاصم جب اگلے دن اپنی لگژری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ عاصم کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ دل میں صرف یہی بے چینی تھی کہ وہ جلد از جلد اپنے دفتر کی میٹنگ کے لیے واپس شہر پہنچ جائے۔

جب عاصم نے باپ کا وہ تاریک اور چھوٹا کمرہ صاف کیا، تو میز پر رکھے اسی پرانے ٹرانزسٹر اور اس کے ساتھ ایک لفافے پر اس کی نظر پڑی۔ اس نے جب کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا تو اس میں بابا منظور کے ہاتھ کی لرزتی ہوئی تحریر تھی: "میرے پیارے بیٹے عاصم، مجھے معلوم ہے تم بڑے آدمی بن گئے ہو اور تمہاری دنیا بہت بڑی ہے۔ میں نے اس پرانے ریڈیو کی آواز کے سہارے تمہاری راہ دیکھی ہے تاکہ تنہائی محسوس نہ ہو۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی عاصم کے اندر کا سارا غرور اور سنگدلانہ غفلت ایک لمحے میں ٹوٹ گئی۔ وہ اس پرانے ٹرانزسٹر کو سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ ریڈیو بھی ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکا تھا۔

کہانی کا نام: پرانا ٹرانزسٹر اور بابا کا ریڈیو

ہیرو: بابا منظور (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: عاصم (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments