Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 32

پرانا چشمہ اور ماں کی نگاہیں

دھندلے شیشے اور انتظار کی طویل راتیں

ماں کی کمزور بینائی اور شہر کی چمکدار دنیا

زندگی بعض اوقات ہمیں کامیابی کی اس منزل پر لے جاتی ہے جہاں ہم دنیا بھر کی روشنیاں تو خرید لیتے ہیں مگر اپنوں کی راہ دیکھتے دیکھتے بجھ جانے والی آنکھوں کو نہیں دیکھ پاتے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی زیدہ کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے گھر میں ٹین کی چھت کے نیچے تنہا رہتی تھی۔ اس کی آنکھوں کی بینائی جوانی ہی میں کمزور ہو گئی تھی، اور وہ ایک پرانا، ٹیپ لگا ہوا چشمہ پہنا کرتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا فرحان تھا، جسے مائی زیدہ نے لوگوں کے کپڑے سی کر، خود راتوں کو اندھیرے میں سلائی کرتے ہوئے اور اپنی بینائی داؤ پر لگا کر شہر کے بڑے کالج سے انجینئر بنایا تھا۔

فرحان جب شہر گیا اور اسے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں بڑی نوکری مل گئی، تو اس کی دنیا بدل گئی۔ وہ فلیٹس، اے سی اور مصروف ترین روٹین میں ایسا الجھا کہ اس نے اپنی ماں کو بالکل بھلا دیا۔ مائی زیدہ ہر روز شام کو وہی پرانا چشمہ پہن کر دروازے پر بیٹھ جاتی، اور آنے جانے والے ہر شخص سے پوچھتی کہ کیا اس کا فرحان آیا ہے؟ اس کی آنکھوں کے وہ دھندلے شیشے اب صرف اپنے بیٹے کا رستہ تکتے تکتے مزید کمزور ہو چکے تھے، مگر فرحان کا فون تک مہینوں نہ آتا تھا۔

ایک دن گاؤں سے فون آیا کہ مائی زیدہ کی طبیعت انتہائی نازک ہے اور وہ آخری ہچکیاں لے رہی ہیں۔ فرحان جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ دل میں صرف جلدی واپس جانے کی بے چین جلدی تھی۔

جب فرحان نے ماں کا وہ تاریک کمرہ صاف کیا، تو میز پر رکھے اسی پرانے ٹیپ لگے چشمے اور ایک لفافے پر اس کی نظر پڑی۔ اس نے جب کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا تو اس میں ماں کے ہاتھ کی لرزتی ہوئی تحریر تھی: "میرے پیارے بیٹے فرحان، میں جانتی ہوں تم بہت مصروف ہو اور تمہاری بڑی دنیا ہے۔ میری آنکھیں تو اس پرانے چشمے سے اب دھندلا چکی ہیں، لیکن میرے دل میں تمہارا چہرہ آج بھی ویسا ہی روشن ہے۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی فرحان کے اندر کا سارا غرور اور سنگدلانہ غفلت پل بھر میں ٹوٹ گئی۔ وہ اس پرانے چشمے کو سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ چشمہ ہمیشہ کے لیے خیمہ بن کر سو چکا تھا۔

کہانی کا نام: پرانا چشمہ اور ماں کی نگاہیں

ہیرو: مائی زیدہ (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: فرحان (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments