Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 31

پرانا کھلونے والا اور باپ کا انتظار

پلاسٹک کے گڑھے اور ادھورے وعدے

باپ کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کی بڑی دنیا

کامیابی کی دوڑ میں انسان اکثر ان لوگوں کو بھول جاتا ہے جنہوں نے اپنے حصے کی ہر خوشی کا گلا گھونٹ کر اس کے لیے راستے بنائے تھے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے کھلونے والے بابا بشیر کی، جو سڑک کے کنارے پرانے اور ٹوٹے ہوئے کھلونے جوڑ کر بیچا کرتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا دانیال تھا، جسے بابا بشیر نے لوگوں کے میلوں اور بازاروں میں دن بھر ذلیل ہو کر، خود بھوکے رہ کر اور ایک ایک روپیہ جوڑ کر شہر کی سب سے بڑی یونیورسٹی سے ڈاکٹر بنایا تھا۔

دانیال جب شہر میں ایک نامور سرجن بن گیا اور اس کے پاس شہر کی پوش سوسائٹی میں بنگلہ اور بڑی گاڑی آ گئی، تو اسے اپنے بوڑھے باپ کا یہ غریبانہ پیشہ اور ان کا پرانا گھر اپنی شان کے خلاف لگنے لگا۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنے باپ سے تمام رشتے توڑ لیے۔ بابا بشیر ہر روز شام کو اپنے دروازے پر بیٹھ کر لکڑی کا وہ پرانا لکڑی کا گھوڑا اور کھلونے صاف کرتا تھا جو اس نے دانیال کے بچپن میں اپنے ہاتھوں سے تراشے تھے۔ وہ ہر آنے جانے والے مسافر سے پوچھتا کہ کیا کسی نے اس کے ڈاکٹر بیٹے کو دیکھا ہے؟ مگر مہینے اور سال گزر جاتے اور بیٹے کا فون تک نہ آتا۔

ایک دن ہسپتال کے ایک نمبر سے فون آیا کہ بابا بشیر کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ دانیال جب اگلے دن اپنی لگژری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ دانیال کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اس کے دل میں صرف یہ بے چینی تھی کہ اس کی ہسپتال کی شفٹ کا وقت ہو رہا ہے۔

جب دانیال نے باپ کا وہ خالی اور تنگ کمرہ صاف کیا، تو کونے میں رکھے اسی پرانے کھلونے والے صندوق پر اس کی نظر پڑی۔ اس نے جب صندوق کھولا تو اس میں اس کے بچپن کے ٹوٹے ہوئے کھلونے اور ایک خط رکھا ملا۔ خط پر بابا بشیر کے کانپتے ہاتھوں کی تحریر تھی: "میرے پیارے بیٹے دانیال، مجھے فخر ہے کہ میرا بیٹا اب لوگوں کی جان بچاتا ہے۔ میں نے زندگی بھر یہ ٹوٹے ہوئے کھلونے بیچے تاکہ میرے بیٹے کو زندگی میں کبھی کوئی دکھ نہ ملے۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی دانیال کے اندر کا سارا غرور اور تکبر ایک لمحے میں مٹی میں مل گیا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اس پرانے صندوق سے لپٹ کر اپنے کیے پر ماتم کرنے لگا، مگر اب وقت ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل چکا تھا اور باپ کی خاموشی ہمیشہ کے لیے طویل ہو چکی تھی۔

کہانی کا نام: پرانا کھلونے والا اور باپ کا انتظار

ہیرو: بابا بشیر (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غرور اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: دانیال (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments