Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 30

پرانا جوتا اور باپ کے قدم

پکے راستے اور تھکے ہوئے قدم

باپ کی ادھوری امیدیں اور شہر کی بے حس دنیا

زندگی بعض اوقات انسان کو کامیابی کی ایسی بلندی پر لے جاتی ہے جہاں سے اسے اپنے پاؤں کے نیچے کی زمین تو مضبوط لگتی ہے، مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس نے یہاں تک پہنچنے کے لیے کس کے کندھوں کا سہارا لیا تھا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے موچی بابا سبحان کی، جو ایک چھوٹے سے قصبے میں سڑک کے کنارے بیٹھ کر لوگوں کے پرانے جوتے سیا کرتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا سلمان تھا، جسے بابا سبحان نے دن رات لوگوں کے جوتے گانٹھ کر، خود ننگے پاؤں پھر کر اور پیٹ کاٹ کر شہر کی نامور یونیورسٹی میں وکیل بنایا تھا۔

سلمان جب شہر میں ایک بڑا وکیل بن گیا اور اس کے پاس بینک بیلنس، کوٹھی اور بڑی گاڑیاں آ گئیں، تو اس نے اپنے بوڑھے باپ اور اس کے پرانے کام سے منہ موڑ لیا۔ اسے اپنے باپ کے جوتوں کی سلائی والا وہ پرانا صندوق شہر کے لوگوں کے سامنے لاتے ہوئے شرم آنے لگی تھی۔ بابا سبحان ہر روز شام کو اپنے دروازے پر بیٹھ کر اسی پرانے جوتے کو دیکھا کرتا تھا جو اس نے سلمان کے بچپن میں اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا اور جس پر اب بھی بیٹے کے چھوٹے قدموں کے نشان باقی تھے۔ وہ ہر آنے جانے والے سے پوچھتا کہ کیا اس کا سلمان آیا ہے؟ مگر مہینے گزر جاتے اور بیٹے کا فون تک نہ آتا۔

ایک دن گاؤں سے ایک شخص کا فون آیا کہ بابا سبحان کی طبیعت انتہائی ناساز ہے اور وہ اب چند لمحوں کے مہمان ہیں۔ سلمان جب اگلے دن اپنی لگژری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے ہی والا تھا۔ سلمان کے دل میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ اسے صرف اپنی اگلی عدالت کی پیشی کی جلدی تھی۔

جب سلمان نے باپ کا خالی کمرہ صاف کیا، تو کونے میں رکھے اسی پرانے جوتے پر اس کی نظر پڑی جس کے ساتھ ایک کاغذ پر لکھا ہوا خط رکھا تھا۔ کانپتے ہاتھوں سے جب سلمان نے خط پڑھا تو اس پر لکھا تھا: "میرے بیٹے سلمان، میں جانتا ہوں اب تم بڑے آدمی بن گئے ہو اور تمہاری دنیا الگ ہے۔ میں نے زندگی بھر لوگوں کے جوتے سیے تاکہ تم فخر سے اونچے راستوں پر چل سکو۔ یہ پرانا جوتا تمہاری یاد کے لیے چھوڑ رہا ہوں۔ خوش رہو۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی سلمان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا اور وہ اس پرانے جوتے سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ باپ کا ساتھ ہمیشہ کے لیے چھوٹ چکا تھا۔

کہانی کا نام: پرانا جوتا اور باپ کے قدم

ہیرو: بابا سبحان (بے لوث محبت اور قربانی کا پیکر)

ولن: غرور اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: سلمان (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments