Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 28

پرانا مٹی کا چولہا اور ماں کی روٹی

دھواں چھوڑتی راکھ اور یادوں کی خوشبو

ماں کے جھلسے ہوئے ہاتھ اور شہر کی رنگین دنیا

کامیابی کی دوڑ میں انسان اکثر ان سچی قربانیوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے جن کی تپش پر اس کے مستقبل کی روٹیاں پکتی ہیں۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی حوا کی، جو گاؤں کے ایک ویران سے کونے میں لکڑیوں پر چلنے والے ایک پرانے مٹی کے چولہے کے سامنے بیٹھی رہتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا کاشف تھا، جسے اس نے لوگوں کے گھروں میں روٹیاں پکا کر، اپنی انگلیوں کے چھالے مٹا کر اور خود بھوکے سو کر شہر کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی یونیورسٹی تک پہنچایا تھا تاکہ وہ ایک بڑا انجینئر بن سکے۔

کاشف جب شہر گیا اور اسے ایک بڑی کمپنی میں شاندار نوکری مل گئی، تو اس کی دنیا یکسر بدل گئی۔ اس کی زندگی میں فلیٹس، اے سی اور مہنگے ہوٹلوں کا کھانا آ گیا، اور وہ اپنی ماں کے اس پرانے مٹی کے چولہے کو بھول گیا جس کے سائے میں اس نے بچپن گزارا تھا۔ شروع میں مہینے میں ایک فون آ جاتا تھا، مگر پھر وہ بھی بند ہو گیا۔ مائی حوا ہر روز شام کو اسی پرانے مٹی کے چولہے پر آگ جلاتی، ایک روٹی زیادہ بناتی اور دروازے کی طرف دیکھتی رہتی کہ شاید میرا کاشف آ جائے اور گرم گرم روٹی مانگے۔ وہ چولہے سے اٹھنے والے دھوئیں میں اپنے بیٹے کا چہرہ ڈھونڈتی رہتی تھی۔

سال گزرتے گئے، کاشف اب کروڑوں کا مالک بن چکا تھا، مگر اس کے پاس ماں کے لیے دو بول کا وقت نہیں تھا۔ ایک دن گاؤں کے ایک نمبردار کا فون آیا کہ مائی حوا اب اس دنیا میں نہیں رہی ہیں۔ کاشف اگلے دن اپنی شان دار گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا کفن دفن کا مرحلہ مکمل ہو چکا تھا۔ اس کے دل میں غم سے زیادہ صرف یہ جلدی تھی کہ وہ جلد از جلد شہر واپس لوٹ جائے۔

جب کاشف نے ماں کا وہ اجڑا ہوا باورچی خانہ دیکھا، تو اس کی نظر کونے میں بنے اسی پرانے مٹی کے چولہے پر پڑی، جس کی راکھ پر انگلی سے ایک پیغام لکھا ہوا تھا اور ساتھ میں ایک خط پڑا تھا۔ اس نے جب خط کھولا تو اس میں ماں کے کانپتے ہاتھوں کی تحریر تھی: "میرے بچے کاشف، مجھے معلوم ہے تم بڑے شہر میں بڑے کھاتے ہو گے۔ میں نے روز اس چولہے پر تمہاری پسند کی روٹی بنائی اس امید پر کہ تم کبھی تو بھوکے لوٹو گے۔ تم جہاں بھی رہو، پیٹ بھر کر کھانا۔" یہ الفاظ پڑھتے ہی کاشف کا غرور پل بھر میں خاک ہو گیا، اور وہ اسی پرانے چولہے کی راکھ سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب راکھ ٹھنڈی ہو چکی تھی اور ماں جا چکی تھی۔

کہانی کا نام: پرانا مٹی کا چولہا اور ماں کی روٹی

ہیرو: مائی حوا (بے لوث محبت اور مامتا کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی آسائشیں

سائیڈ کردار: کاشف (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments