Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 27

پرانا گھڑیال اور باپ کا وقت

ٹک ٹک کرتی سوئیاں اور خاموش راستے

باپ کے ترستے ہاتھ اور شہر کی بے حس دنیا

زندگی بعض اوقات ہمیں کامیابی کی اس دوڑ میں لے جاتی ہے جہاں ہم دنیا بھر کا وقت تو خرید لیتے ہیں مگر اپنے پیاروں کے لیے چند لمحے نہیں بچا پاتے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے باپ بابا سلامت کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے گھر میں دیوار پر ٹنگے ہوئے پرانے لکڑی کے گھڑیال کے سائے میں اکیلا رہتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا فواد تھا، جسے بابا سلامت نے اپنی زندگی کی تمام جمع پونجی لٹا کر، لوگوں کے کھیتوں میں دن رات مزدوری کر کے شہر کی بڑی یونیورسٹی میں پڑھایا تھا تاکہ وہ ایک بڑا افسر بن سکے۔

فواد جب شہر گیا اور اسے ایک بڑی نوکری مل گئی، تو وہ آہستہ آہستہ اپنے بوڑھے باپ کو بھول گیا۔ شروع میں فون پر مہینے میں ایک بار بات ہوتی تھی، پھر وہ رابطہ بھی بالکل ختم ہو گیا۔ بابا سلامت ہر روز شام کو اسی پرانے گھڑیال کے نیچے بیٹھ جاتے اور اس کی ٹک ٹک سنتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھتے رہتے، اس امید پر کہ شاید ان کا بیٹا انہیں ملنے آ رہا ہے۔ انہوں نے فواد کے بچپن کا ایک چھوٹا سا کھلونا اس گھڑیال کے نیچے احتیاط سے سجا رکھا تھا۔ وہ ہر عید پر یہ سوچ کر انتظار کرتے کہ فواد آئے گا، مگر دروازے پر صرف ہوائیں ہی دستک دیتی تھیں۔

برسوں بیت گئے، ایک دن بابا سلامت کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی اور وہ چارپائی سے لگ گئے۔ آخری وقت میں انہوں نے ایک پڑوسی سے کہہ کر فواد کو بلاوا بھیجا۔ فواد جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کی میت اٹھنے والی تھی۔ فواد کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ دل میں صرف جلدی واپس جانے کی جلدی تھی۔

جب فواد نے اپنے باپ کا کمرہ صاف کیا، تو دیوار پر ٹنگے اسی پرانے گھڑیال اور اس کے نیچے رکھے ایک خط پر اس کی نظر پڑی۔ اس نے جب کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا تو اس میں لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے فواد، مجھے معلوم ہے تم بہت مصروف ہو اور تمہارے پاس زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔ میں نے اس پرانے گھڑیال کے نیچے بیٹھ کر تمہاری واپسی کا ہر سیکنڈ گنا ہے۔ میں صرف تمہیں اپنے آخری وقت میں دیکھنا چاہتا تھا۔ خیر، جہاں بھی رہو خوش رہو۔" خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی فواد کے اندر کا سارا غرور ٹوٹ گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب پچھتاوے کے علاوہ کچھ باقی نہیں بچا تھا۔

کہانی کا نام: پرانا گھڑیال اور باپ کا وقت

ہیرو: بابا سلامت (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: فواد (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments