Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 26

پرانا چھت اور ماں کا انتظار

برساں کی بارشیں اور ٹوٹتی چھت

ماں کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کی بڑی دنیا

زندگی بعض اوقات ہمیں کامیابی کی اس بلندی پر پہنچا دیتی ہے جہاں سے نیچے دیکھنے پر اپنے ہی ماضی کے قدموں کے نشان مٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی سکینہ کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے پرانے گھر میں تنہا رہتی تھی جس کی چھت جگہ جگہ سے بارش میں ٹپکا کرتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا تنویر تھا، جسے اس نے اپنے دن رات ایک کر کے، لوگوں کے گھروں میں سلائی کر کے اور خود بھوکے رہ کر شہر کے نامور کالج تک پہنچایا تھا۔ مائی سکینہ کے پاس اپنی غربت کی وجہ سے دینے کو کچھ نہیں تھا، سوائے اسی پرانے گھر کی چھت کے، جس کے نیچے وہ روز تنویر کے بچپن کے دنوں کو یاد کیا کرتی تھی۔

تنویر جب شہر گیا اور اسے ایک بڑی نوکری مل گئی، تو وہ آہستہ آہستہ اپنی بوڑھی ماں اور اس پرانے گاؤں کو بھول گیا۔ شروع میں فون پر مہینے میں ایک آدھا بار بات ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی بالکل ختم ہو گیا۔ مائی سکینہ ہر روز بارش کی راتوں میں گھر کے اسی کونے میں بیٹھ جاتی جہاں چھت ٹپکتی تھی، اور دروازے کی طرف دیکھती رہتی، اس امید پر کہ شاید اس کا تنویر اسے دیکھنے آ جائے اور اس کی یہ تکلیف دور کر دے۔ وہ ہر آنے جانے والے شخص سے اپنے بیٹے کا پوچھتی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کی امیدیں بھی دم توڑنے لگیں۔

کئی سال گزر گئے، تنویر کے پاس دولت، گاڑی اور بڑی کوٹھی سب کچھ آ گیا، مگر اس کے پاس اپنی ماں کے لیے دو منٹ کا وقت نہیں تھا۔ ایک دن گاؤں سے ایک پڑوسی کا فون آیا کہ مائی سکینہ کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ تنویر جب اگلے دن اپنی لگژری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا اور اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بس دل میں جلدی واپس جانے کی بے چینی تھی۔

جب تنویر نے ماں کا وہ پرانا کمرہ صاف کیا، تو اس کی نظر کونے میں رکھی ایک پرانی ڈائری پر پڑی، جس میں ماں کے ہاتھ کا آخری پیغام تھا: "میرے پیارے بیٹے تنویر، مجھے معلوم ہے تم بڑے آدمی بن گئے ہو اور تمہارے پاس میرے لیے وقت نہیں ہے۔ میں نے اس ٹپکتی ہوئی چھت کے نیچے بیٹھ کر روز تمہاری راہ دیکھی ہے۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی تنویر کی دنیا الٹ گئی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اس پرانے گھر کے دروازے سے لپٹ کر اپنے پچھتاوے پر ماتم کرنے لگا، مگر اب وقت ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

کہانی کا نام: پرانا چھت اور ماں کا انتظار

ہیرو: مائی سکینہ (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی ہوس

سائیڈ کردار: تنویر (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments