پرانا گھڑا اور ماں کی پیاس
ٹھنڈا پانی اور تپتے ہوئے راستے
ماں کے ترستے ہاتھ اور شہر کی بے حس دنیا
زندگی بعض اوقات ہمیں کامیابی کی اس بلند منزل پر پہنچا دیتی ہے جہاں ہمارے پاس ہر شے موجود ہوتی ہے سوائے اس ایک لمحے کے جو ہم اپنے ماضی اور اپنوں کے ساتھ گزار سکتے تھے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی مریم کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے تپتے ہوئے صحن میں مٹی کا ایک پرانا گھڑا رکھ کر زندگی گزار رہی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا اسلم تھا، جسے مائی مریم نے دن رات لوگوں کے کھیتوں میں مزدوری کر کے، خود دھوپ میں جل کر اور پیاسے رہ کر شہر کے ایک بڑے کالج تک پڑھایا تھا۔
اسلم جب شہر گیا اور اسے ایک بڑی نوکری مل گئی، تو وہ آہستہ آہستہ اپنی بوڑھی ماں اور اس پرانے گاؤں کو بھول گیا۔ شروع میں فون پر مہینے میں ایک بار بات ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی بالکل ختم ہو گیا۔ مائی مریم ہر روز دوپہر کی تپتی دھوپ میں اسی پرانے گھڑے سے ٹھنڈا پانی بھر کر دروازے پر بیٹھ جاتی، اس امید پر کہ شاید اس کا اسلم تھکا ہارا لوٹ آئے گا اور وہ اپنے ہاتھوں سے اسے پانی پلائے گی۔ وہ ہر آنے جانے والے مسافر کو دیکھتی اور اپنے بیٹے کی سلامتی کی دعائیں مانگتی۔
کئی سال گزر گئے، اسلم کے پاس دولت، گاڑی اور بڑی کوٹھی سب کچھ آ گیا، مگر اس کے پاس اپنی ماں کے لیے دو منٹ کا وقت نہیں تھا۔ ایک دن گاؤں سے ایک پڑوسی کا فون آیا کہ مائی مریم کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ اسلم جب اگلے دن اپنی لگژری گاڑی میں گاؤں پہنچا، তো اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا اور اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بس دل میں جلدی واپس جانے کی بے چینی تھی۔
جب اسلم نے ماں کا وہ پرانا کمرہ صاف کیا، تو اس کی نظر اسی پرانے مٹی کے گھڑے پر پڑی، جس کے پاس ایک خط رکھا تھا جس میں ماں کے ہاتھ کا آخری پیغام تھا: "میرے پیارے بیٹے اسلم، مجھے معلوم ہے تم بڑے آدمی بن گئے ہو اور تمہارے پاس میرے لیے وقت نہیں ہے۔ میں نے اس گھڑے کو اس امید پر ٹھنڈا رکھا تھا کہ میرا پیاسا بیٹا لوٹ کر آئے گا۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی اسلم کی دنیا الٹ گئی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اس پرانے گھڑے سے لپٹ کر اپنے پچھتاوے پر ماتم کرنے لگا، مگر اب وقت ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔
کہانی کا نام: پرانا گھڑا اور ماں کی پیاس
ہیرو: مائی مریم (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی ہوس
سائیڈ کردار: اسلم (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.