پرانا ہارمونیم اور باپ کا ساز
سُروں کی گونج اور تنہائی کے سائے
باپ کے ترستے ہاتھ اور شہر کی بے حس دنیا
زندگی بعض اوقات ہمیں کامیابی کے ایسے موڑ پر لے جاتی ہے جہاں ہم شہرت کی چکاچوند میں اپنے ماضی کے سب سے سچے اور مخلص رشتوں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے نغمہ نگار اور موسیكار بابا الطاف کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے کمرے میں اپنا پرانا، جگہ جگہ سے لکڑی کھردرا ہوا ہارمونیم بجایا کرتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا ارمان تھا، جسے بابا الطاف نے شادی بیاہ اور میلوں میں ہلکی پھلکی مزدوری کر کے، خود رات بھر جاگ کر اور لوگوں کی طعنے سن کر شہر کی نامور یونیورسٹی میں موسیقی اور آرٹس کی اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی تاکہ وہ ایک بڑا نامور کمپوزر بن سکے۔
ارمان جب شہر گیا اور اپنی محنت سے ٹی وی اور فلم انڈسٹری میں ایک بہت بڑا میوزک ڈائریکٹر بن گیا، تو اس کی دنیا ہی بدل گئی۔ اس کے پاس اب مداحوں کا ہجوم، مہنگا اسٹوڈیو اور لژری گاڑیاں تھیں، مگر اس کے پاس اپنے بوڑھے باپ کے لیے دو منٹ کا وقت نہیں تھا۔ شروع میں فون پر مہینے میں ایک بار خیریت دریافت ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی بالکل منقطع ہو گیا۔ بابا الطاف ہر روز شام کو اپنے گھر کے برآمدے میں بیٹھ کر اسی پرانے ہارمونیم کی ریاضت کرتے اور اس امید میں دروازے کی طرف دیکھتے رہتے کہ شاید ان کا بیٹا کبھی اپنے بچپن کی دھنیں سننے ان کے پاس لوٹ آئے گا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی ہر یاد کو اپنے سینے میں اس ساز کی طرح سجا رکھا تھا۔
برسوں بیت گئے، ایک سرد شام بابا الطاف کی طبیعت اچانک بہت زیادہ خراب ہو گئی اور وہ چارپائی سے لگ گئے۔ آخری وقت میں انہوں نے محلے کے ایک شخص کے ذریعے ارمان کو پیغام بھجوایا کہ اس کا باپ آخری سانسیں لے رہا ہے۔ ارمان جب اگلے دن اپنی شان دار کار میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے ہی والا تھا۔ اس کی آنکھوں میں اپنے باپ کے لیے ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ دل میں صرف اس بات کی بے چینی تھی کہ اس کی میٹنگ کا وقت ہو رہا ہے۔
جب ارمان نے اپنے باپ کا وہ خالی کمرہ دیکھا، تو وہاں کونے میں وہی پرانا ہارمونیم رکھا تھا جس کی چابیاں گھس چکی تھیں۔ اس نے ہارمونیم کے اوپر رکھے ایک لفافے کو اٹھایا اور کھولا۔ اندر بابا الطاف کے کانپتے ہاتھوں کا لکھا ہوا آخری خط تھا: "میرے پیارے بیٹے ارمان، مجھے فخر ہے کہ تم نے دنیا میں میرے سُروں کا نام روشن کیا۔ میں جانتا ہوں تم بہت مصروف ہو، اس لیے میں تمہیں اپنے اس آخری سفر میں زحمت نہیں دینا چاہتا تھا۔ بس یہ پرانا ہارمونیم تمہاری امانت ہے، اسے یاد رکھنا۔ جہاں بھی رہو، خوش رہو۔"
خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی ارمان کے دل کی دنیا ایک لمحے میں الٹ گئی۔ اس نے زندگی میں پہلی بار محسوس کیا کہ اس نے دولت اور شہرت کے بدلے کیا انمول رشتہ کھو دیا ہے۔ وہ اس پرانے ہارمونیم سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اپنے پچھتاوے پر ماتم کرنے لگا، مگر اب وقت ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل چکا تھا اور وہ آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی۔
کہانی کا نام: پرانا ہارمونیم اور باپ کا ساز
ہیرو: بابا الطاف (بے لوث محبت اور فن کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: ارمان (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.