Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 23

پرانا تکیہ اور ماں کی لوری

یادوں کی خوشبو اور ادھوری نیندیں

ماں کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کی بڑی دنیا

زندگی بعض اوقات ہمیں کامیابی کی اس بلندی پر پہنچا دیتی ہے جہاں سے نیچے دیکھنے پر اپنے ہی ماضی کے قدموں کے نشان مٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی آمنہ کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے کچے گھر میں تنہا رہتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا وقار تھا، جسے اس نے اپنے دن رات ایک کر کے، لوگوں کے گھروں میں سلائی کر کے اور خود بھوکے رہ کر شہر کے نامور کالج تک پہنچایا تھا۔ مائی آمنہ کے پاس اپنی غربت کی وجہ سے دینے کو کچھ نہیں تھا، سوائے ایک پرانے روئی والے تکیے کے، جس پر سر رکھ کر وہ روز وقار کے بچپن کے دنوں کو یاد کیا کرتی تھی۔

وقار جب شہر گیا اور اسے ایک بڑی نوکری مل گئی، تو وہ آہستہ آہستہ اپنی بوڑھی ماں اور اس پرانے گاؤں کو بھول گیا۔ شروع میں فون پر مہینے میں ایک آدھا بار بات ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی بالکل ختم ہو گیا۔ مائی آمنہ ہر روز شام کو گھر کے اسی پرانے تکیے کو سینے سے لگا کر بیٹھ جاتی، اور دروازے کی طرف دیکھتی رہتی، اس امید پر کہ شاید اس کا وقار اسے دیکھنے آ جائے۔ وہ ہر آنے جانے والے شخص سے اپنے بیٹے کا پوچھتی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کی امیدیں بھی دم توڑنے لگیں۔

کئی سال گزر گئے، وقار کے پاس دولت، گاڑی اور بڑی کوٹھی سب کچھ آ گیا، مگر اس کے پاس اپنی ماں کے لیے دو منٹ کا وقت نہیں تھا۔ ایک دن گاؤں سے ایک پڑوسی کا فون آیا کہ مائی آمنہ کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ وقار جب اگلے دن اپنی لگژری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا اور اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بس دل میں جلدی واپس جانے کی بے چینی تھی۔

جب وقار نے ماں کا وہ پرانا کمرہ صاف کیا، تو اس کی نظر اسی پرانے تکیے پر پڑی، جس کے غلاف کے اندر ایک خط رکھا تھا جس میں ماں کے ہاتھ کا آخری پیغام تھا: "میرے پیارے بیٹے، مجھے معلوم ہے تم بڑے آدمی بن گئے ہو اور تمہارے پاس میرے لیے وقت نہیں ہے۔ میں نے اس پرانے تکیے پر روز تمہاری یاد کے آنسو بہائے ہیں۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی وقار کی دنیا الٹ گئی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اس پرانے تکیے سے لپٹ کر اپنے پچھتاوے پر ماتم کرنے لگا، مگر اب وقت ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

کہانی کا نام: پرانا تکیہ اور ماں کی لوری

ہیرو: مائی آمنہ (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی ہوس

سائیڈ کردار: وقار (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments