Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 22

پرانا لیمپ اور ماں کا انتظار

روشن کرنیں اور ادھوری آہیں

ماں کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کی بڑی دنیا

زندگی بعض اوقات ہمیں کامیابی کی اس بلندی پر پہنچا دیتی ہے جہاں سے نیچے دیکھنے پر اپنے ہی ماضی کے قدموں کے نشان مٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے کچے گھر میں تنہا رہتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا ندیم تھا، جسے اس نے اپنے دن رات ایک کر کے، لوگوں کے گھروں میں سلائی کر کے اور خود بھوکے رہ کر شہر کے نامور کالج تک پہنچایا تھا۔ مائی بی بی کے پاس اپنی غربت کی وجہ سے دینے کو کچھ نہیں تھا، سوائے ایک پرانے مٹی کے لیمپ کے، جس کی دھیمی روشنی میں وہ روز ندیم کے بچپن کی کتابیں پڑھا کرتی تھی۔

ندیم جب شہر گیا اور اسے ایک بڑی نوکری مل گئی، تو وہ آہستہ آہستہ اپنی بوڑھی ماں اور اس پرانے گاؤں کو بھول گیا۔ شروع میں فون پر مہینے میں ایک آدھا بار بات ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی بالکل ختم ہو گیا۔ مائی بی بی ہر روز شام کو گھر کے دروازے پر وہی پرانا لیمپ جلا کر بیٹھ جاتی، اور دروازے کی طرف دیکھتی رہتی، اس امید پر کہ شاید اس کا ندیم اسے دیکھنے آ جائے۔ وہ ہر آنے جانے والے شخص سے اپنے بیٹے کا پوچھتی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کی امیدیں بھی دم توڑنے لگیں۔

کئی سال گزر گئے، ندیم کے پاس دولت، گاڑی اور بڑی کوٹھی سب کچھ آ گیا، مگر اس کے پاس اپنی ماں کے لیے دو منٹ کا وقت نہیں تھا۔ ایک دن گاؤں سے ایک پڑوسی کا فون آیا کہ مائی بی بی کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ ندیم جب اگلے دن اپنی لگژری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا اور اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بس دل میں جلدی واپس جانے کی بے چینی تھی۔

جب ندیم نے ماں کا وہ پرانا کمرہ صاف کیا، تو اس کی نظر اسی پرانے لیمپ پر پڑی، جس کے نیچے ایک خط رکھا تھا جس میں ماں کے ہاتھ کا آخری پیغام تھا: "میرے پیارے بیٹے، مجھے معلوم ہے تم بڑے آدمی بن گئے ہو اور تمہارے پاس میرے لیے وقت نہیں ہے۔ میں نے اس پرانے لیمپ کو اس امید پر جلا کر رکھا تھا کہ میرا بیٹا اندھیرے راستے سے صحیح سلامت لوٹ آئے گا۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی ندیم کی دنیا الٹ گئی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اس پرانے لیمپ سے لپٹ کر اپنے پچھتاوے پر ماتم کرنے لگا، مگر اب وقت ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

کہانی کا نام: پرانا لیمپ اور ماں کا انتظار

ہیرو: مائی بی بی (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی ہوس

سائیڈ کردار: ندیم (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments