پرانا سلیٹ اور ماں کا انتظار
بچپن کے نقش اور ادھوری خواہشیں
ماں کے تھکے ہاتھ اور بیٹے کی بڑی دنیا
زندگی بعض اوقات ہمیں کامیابی کی اس بلندی پر پہنچا دیتی ہے جہاں سے نیچے دیکھنے پر اپنے ہی ماضی کے قدموں کے نشان مٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی زینب کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے کچے گھر میں تنہا رہتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا جمیل تھا، جسے اس نے اپنے دن رات ایک کر کے، لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اور خود بھوکے رہ کر شہر کے نامور کالج تک پہنچایا تھا۔ مائی زینب کے پاس اپنی غربت کی وجہ سے دینے کو کچھ نہیں تھا، سوائے ایک پرانے مٹی کے سلیٹ کے، جس پر وہ جمیل کو بچپن میں الف ب لکھا کرتی تھی۔
جمیل جب شہر گیا اور اسے ایک بڑی نوکری مل گئی، تو وہ آہستہ آہستہ اپنی بوڑھی ماں اور اس پرانے گاؤں کو بھول گیا۔ شروع میں فون پر مہینے میں ایک آدھا بار بات ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی بالکل ختم ہو گیا۔ مائی زینب ہر روز شام کو اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھ جاتی، اور اسی پرانے سلیٹ کو ہاتھ میں لے کر بیٹھ جاتی جس پر جمیل نے اپنے ہاتھ سے پہلا حرف لکھا تھا. وہ ہر روز آنے جانے والے ہر شخص سے اپنے بیٹے کا پوچھتی، اس امید پر کہ شاید اس کا جمیل اسے دیکھنے آ جائے۔
کئی سال گزر گئے، جمیل کے پاس دولت، گاڑی اور بڑی کوٹھی سب کچھ آ گیا، مگر اس کے پاس اپنی ماں کے لیے دو منٹ کا وقت نہیں تھا۔ ایک دن گاؤں سے ایک پڑوسی کا فون آیا کہ مائی زینب کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ جمیل جب اگلے دن اپنی لگژری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بس دل میں جلدی واپس جانے کی بے چینی تھی۔
جب جمیل نے ماں کا وہ پرانا کمرہ صاف کیا، تو اس کی نظر اسی پرانے سلیٹ پر پڑی، جس کے کونے پر چاک سے لکھا تھا: "میرا بیٹا جمیل - ہمیشہ خوش رہے۔" اور اس کے ساتھ ایک خط رکھا تھا جس میں ماں کے ہاتھ کا آخری پیغام تھا: "میرے پیارے بیٹے، مجھے معلوم ہے تم بڑے آدمی بن گئے ہو اور تمہارے پاس میرے لیے وقت نہیں ہے۔ میں نے اس پرانے سلیٹ کو اس امید پر سنبھال رکھا تھا کہ میرا بیٹا کبھی لوٹ کر آئے گا۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی جمیل کی دنیا الٹ گئی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اس پرانے سلیٹ سے لپٹ کر اپنے پچھتاوے پر ماتم کرنے لگا، مگر اب وقت ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔
کہانی کا نام: پرانا سلیٹ اور ماں کا انتظار
ہیرو: مائی زینب (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی ہوس
سائیڈ کردار: جمیل (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.