پرانا چشمہ اور باپ کا انتظار
دھندلے سائے اور بینائی کی آخری امید
باپ کے ترستے ہاتھ اور شہر کی بے حس دنیا
زندگی بعض اوقات ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہمارے پاس دنیا بھر کی دولت تو آ جاتی ہے، مگر اپنوں کی محبت کا ایک قطرہ بھی نہیں بچتا۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے باپ بابا رحمت کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے گھر میں اکیلا رہتا تھا۔ اس کی آنکھوں کی بینائی وقت کے ساتھ کمزور ہو چکی تھی اور وہ ایک پرانا، ٹیپ لگا ہوا چشمہ پہنا کرتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا طارق تھا، جسے بابا رحمت نے اپنی ساری زندگی کی کمائی لٹا کر، لوگوں کے کھیتوں میں مزدوری کر کے شہر کی بڑی یونیورسٹی میں پڑھایا تھا تاکہ وہ ایک بڑا افسر بن سکے۔
طارق جب شہر گیا اور اسے ایک بڑی نوکری مل گئی، تو وہ آہستہ آہستہ اپنے بوڑھے باپ کو بھول گیا۔ شروع میں فون پر مہینے میں ایک بار بات ہوتی تھی، پھر وہ رابطہ بھی بالکل ختم ہو گیا۔ بابا رحمت ہر روز شام کو اپنے گھر کے دروازے پر وہی پرانا چشمہ لگا کر بیٹھ جاتا اور آنے جانے والے ہر شخص کو دیکھتا، اس امید پر کہ شاید اس کا بیٹا اسے ملنے آ رہا ہے۔ اس نے طارق کے بچپن کی ہر نشانی کو بڑی حفاظت سے سنبھال رکھا تھا۔ وہ ہر عید پر یہ سوچ کر انتظار کرتا کہ طارق آئے گا، مگر دروازے پر صرف ہوائیں ہی دستک دیتی تھیں۔
برسوں بیت گئے، ایک دن بابا رحمت کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی اور وہ بستر سے لگ گئے۔ آخری وقت میں انہوں نے ایک پڑوسی سے کہہ کر طارق کو بلاوا بھیجا۔ طارق جب اگلے دن اپنی مہنگی گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کی میت اٹھنے والی تھی۔ طارق کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ دل میں صرف جلدی واپس جانے کی جلدی تھی۔
جب طارق نے اپنے باپ کا کمرہ صاف کیا، تو میز پر اس کا وہی پرانا چشمہ اور ایک خط رکھا ملا۔ طارق نے جب کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا تو اس میں لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے طارق، مجھے معلوم ہے تم بہت مصروف ہو اور اب تمہیں میرا یہ پرانا چشمہ اور روپ پسند نہیں آئے گا۔ میں صرف تمہیں اپنے آخری وقت میں دیکھنا چاہتا تھا، تاکہ دیکھ سکوں کہ میرا بیٹا اب کتنا بڑا بن گیا ہے۔ خیر، جہاں بھی رہو خوش رہو۔" خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی طارق کے اندر کا سارا غرور ٹوٹ گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا، مگر اب پچھتاوے کے علاوہ کچھ باقی نہیں بچا تھا۔
کہانی کا نام: پرانا چشمہ اور باپ کا انتظار
ہیرو: بابا رحمت (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت
سائیڈ کردار: طارق (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.