Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 16

پرانا کمبل اور ماں کی مامتا

سرد راتیں اور گرم دعاؤں کا سایہ

ماں کے کانپتے ہاتھ اور شہر کی بے حس دنیا

زندگی انسان کو کامیابی کی ایسی دوڑ میں شامل کر دیتی ہے جہاں وہ اکثر ان رشتوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے جن کی دعاؤں کی بدولت اس کے قدموں میں منزلیں آتی ہیں۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی بی بی کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے کچے گھر میں تنہا رہتی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا عادل، جسے اس نے سرد راتوں میں خود ٹھوکریں کھا کر اور لوگوں کے گھروں میں سلائی کر کے شہر کی بڑی یونیورسٹی تک پہنچایا تھا، اب شہر کا ایک بہت بڑا افسر بن چکا تھا۔

عادل جب شہر گیا تو اس نے اپنی اس مٹی اور اپنی بوڑھی ماں کو آہستہ آہستہ بالکل بھلا دیا۔ شروع میں فون پر مہینے میں ایک آدھا بار بات ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ختم ہو گیا۔ مائی بی بی ہر روز شام کو اپنے گھر کے دروازے پر بیٹھ جاتی، اور سردی کی اس کٹھن رات میں اپنے بیٹے کا دیا ہوا وہ پرانا رفا ہوا کمبل اوڑھ کر اس کی راہ دیکھتی۔ اس نے اس کمبل کو بڑی حفاظت سے سنبھال رکھا تھا کیونکہ عادل کے بچپن کی کتنی ہی یادیں اس سے وابستہ تھیں۔ وہ ہر وقت رب سے یہی دعا کرتی کہ میرا بیٹا جہاں بھی رہے، خوش رہے۔

کئی سال گزر گئے، عادل کے پاس دولت، گاڑی اور بڑی کوٹھی سب کچھ آ گیا، مگر اس کے پاس اپنی ماں کے لیے دو منٹ کا وقت نہیں تھا۔ ایک دن گاؤں سے ایک پڑوسی کا فون آیا کہ مائی بی بی کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ عادل جب اگلے دن اپنی لگژری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بس دل میں جلدی واپس جانے کی بے چینی تھی۔

جب عادل نے ماں کا وہ پرانا کمرہ صاف کیا، تو اس کی نظر اسی پرانے، بوسیدہ کمبل پر پڑی جو ایک کونے میں رکھا تھا، اور اس کے ساتھ ایک لفافہ تھا۔ اس نے جب خط کھولا تو اس میں ماں کے ہاتھ کا لکھا ہوا آخری پیغام تھا: "میرے پیارے بیٹے عادل، مجھے معلوم ہے تم بڑے آدمی بن گئے ہو اور تمہارے پاس میرے لیے وقت نہیں ہے۔ میں نے سردیوں میں یہ پرانا کمبل اس امید پر اوڑھ کر کاٹ لیا کہ شاید میرا بیٹا مجھے سردی سے بچانے آ جائے۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو۔" خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی عادل کی دنیا الٹ گئی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اس پرانے کمبل سے لپٹ کر اپنے پچھتاوے پر ماتم کرنے لگا، مگر اب وقت ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

کہانی کا نام: پرانا کمبل اور ماں کی مامتا

ہیرو: مائی بی بی (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی ہوس

سائیڈ کردار: عادل (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments