پرانا صندوق اور ماں کی دعائیں
یادوں کے صندوق میں بند ماں کا خلوص
ماں کی تپتی آہیں اور بیٹے کی بڑی دنیا
زندگی کے سفر میں جب انسان کامیابی کی منزلیں طے کرتا ہے تو اکثر پیچھے چھوٹے والے ان رشتوں کو بھول جاتا ہے جن کے خون پسینے کی کمائی سے اس کا یہ مقام بنتا ہے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھی ماں مائی سکینہ کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے کچے گھر میں تنہا زندگی گزار رہی تھی۔ اس کا اکلوتا بیٹا فواد، جسے اس نے اپنے دن رات ایک کر کے اور لوگوں کے گھروں میں کام کر کے شہر کی نامور یونیورسٹی تک پہنچایا تھا، اب شہر کا ایک بہت بڑا بزنس مین بن چکا تھا۔
فواد جب شہر گیا تو اس نے اپنی اس مٹی اور اپنی بوڑھی ماں کو آہستہ آہستہ پیچھے چھوڑ دیا۔ شروع میں فون پر مہینے میں ایک آدھا بار بات ہو جاتی تھی، مگر پھر وہ رابطہ بھی ختم ہو گیا۔ مائی سکینہ ہر روز شام کو اپنے گھر کے پرانے لکڑی کے صندوق کے پاس بیٹھتی، اس کے بوسیدہ اور پھٹے ہوئے کاغذات اور فواد کے بچپن کے کپڑے نکال کر دیکھتی، اور آنسو بہاتے ہوئے رب سے اس کی سلامتی کی دعائیں مانگتی۔ اس نے اس صندوق میں فواد کے بچپن سے لے کر جوانی تک کی ہر چھوٹی بڑی نشانی کو بڑی حفاظت سے سنبھال رکھا تھا۔
کئی سال گزر گئے، فواد کے پاس دولت، گاڑی اور بڑی کوٹھی سب کچھ آ گیا، مگر اس کے پاس اپنی ماں کے لیے دو منٹ کا وقت نہیں تھا۔ ایک دن گاؤں سے ایک پڑوسی کا فون آیا کہ مائی سکینہ کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے اور وہ آخری سانسیں لے رہی ہیں۔ فواد جب اگلے دن اپنی لگژری گاڑی میں گاؤں پہنچا، تو اس کی ماں کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بس دل میں جلدی واپس جانے کی بے چینی تھی۔
جب فواد نے ماں کا وہ پرانا کمرہ صاف کیا، تو اس کی نظر اسی لکڑی کے پرانے صندوق پر پڑی۔ اس نے جب صندوق کھولا تو اس کے اندر سے فواد کا بچپن کا ایک پرانا کھلونا، اس کے اسکول کا پہلا بستہ اور ایک خط نکلا جو اس کی ماں نے لکھا تھا: "میرے پیارے بیٹے فواد، مجھے معلوم ہے تم بڑے آدمی بن گئے ہو اور تمہارے پاس میرے لیے وقت نہیں ہے۔ میں نے یہ صندوق تمہاری یادوں کے سہارے زندہ رہنے کے لیے بھرا تھا۔ تم جہاں بھی رہو، خوش رہو، میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔" خط کے یہ الفاظ پڑھتے ہی فواد کی دنیا الٹ گئی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اس صندوق سے لپٹ کر اپنے پچھتاوے پر ماتم کرنے لگا، مگر اب وقت ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔
کہانی کا نام: پرانا صندوق اور ماں کی دعائیں
ہیرو: مائی سکینہ (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)
ولن: غفلت اور دنیاوی ہوس
سائیڈ کردار: فواد (پچھتانے والا بیٹا)
0 Comments
Thanks for your feedback.