Urdu Khaniya - Digital Kahani - kahani no 13

پرانا لیمپ اور باپ کا انتظار

روشن راہیں اور اندھیرے کونے

باپ کے ترستے ہاتھ اور شہر کی بے حس دنیا

زندگی بعض اوقات ہمیں ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہمارے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود دل بالکل ویران ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے ایک بوڑھے باپ بابا عنایت کی، جو گاؤں کے ایک چھوٹے سے ٹوٹے ہوئے گھر میں بیٹھ کر پرانے لیمپ کی روشنی میں راتیں کاٹا کرتا تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا، سلمان، جسے اس نے اپنے دن رات کی سخت محنت، بھوکے پیٹ سو کر اور لوگوں کے کھیتوں میں مزدوری کر کے شہر کی بڑی یونیورسٹی میں پڑھایا تھا۔ بابا عنایت کا بس ایک ہی خواب تھا کہ اس کا بیٹا بڑا افسر بنے اور اس کی زندگی کی ساری مشقتیں رائیگاں نہ جائیں۔ سلمان نے بھی اپنے باپ کے اس خواب کو سچ کر دکھایا اور پڑھ لکھ کر شہر میں ایک بہت بڑا مینیجر بن گیا۔

شہر کی چکاچوند اور اونچی عمارتوں میں جا کر سلمان اپنے بوڑھے باپ کو آہستہ آہستہ بھول گیا۔ شروع میں فون پر ہفتے میں ایک بار بات ہوتی تھی، پھر مہینے میں، اور پھر یہ رابطہ بالکل ہی ختم ہو گیا۔ بابا عنایت ہر روز شام کو دروازے پر وہی پرانا لیمپ جلا کر بیٹھ جاتے اور آنے جانے والے ہر شخص کو دیکھتے، اس امید پر کہ شاید ان کا بیٹا انہیں ملنے آ جائے۔ وہ ہر عید پر ایک نیا کرتا تیار رکھتے کہ سلمان آئے گا تو اسے تحفے میں دیں گے، مگر ان کے گھر کے دروازے پر صرف ہوا کے جھونکے ہی دستکیتے۔ بابا عنایت نے اپنے بیٹے کو کئی خط لکھے، مگر ایک کا بھی جواب نہیں آیا کیونکہ سلمان کے لیے وہ پرانے خط اب کسی اہمیت کے حامل نہیں رہے تھے۔

برسوں بیت گئے، بابا عنایت کی بینائی کمزور ہو گئی اور ہڈیاں کمزور پڑ گئیں۔ ایک دن سردی کی رات تھی، جب سینے میں اٹھنے والے شدید درد نے ان کی سانسوں کو جکڑ لیا۔ آخری وقت میں انہوں نے اپنے ایک پڑوسی کو بلا کر ایک خط سلمان کے نام لکھوایا اور کہا کہ یہ میری آخری امانت میرے بیٹے تک پہنچا دینا۔ اگلے ہی دن بابا عنایت کی میت اسی پرانے گھر کے صحن میں رکھی تھی جہاں انہوں نے اپنی پوری جوانی گزار دی تھی۔ پڑوسیوں نے بڑی مشکل سے نمبر تلاش کر کے سلمان کو اطلاع دی کہ اس کے باپ کا انتقال ہو چکا ہے۔

سلمان جب اگلی صبح اپنی قیمتی گاڑی میں بیٹھ کر گاؤں پہنچا، تو اس کے باپ کا جنازہ اٹھنے والا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک قطرہ آنسو بھی نہیں تھا، بلکہ چہرے پر اس بات کی شکن تھی کہ اس کا ضروری آفس کا وقت ضائع ہو رہا ہے۔ جب وہ اپنے گھر کے چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوا، تو پرانے لیمپ کے پاس وہی خط اور ایک نیا سیا ہوا کرتا رکھا تھا۔ اس نے بے دلی سے لفافہ کھولا اور پڑھنا شروع کیا: "میرے پیارے بیٹے سلمان، مجھے معلوم ہے تم بہت مصروف ہو، اور اب تم میرے جیسے بوڑھے آدمی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ میں صرف تمہیں ایک بار اپنے آخری وقت میں دیکھنا چاہتا تھا، تاکہ تمہیں بتا سکوں کہ تم ہی میری کائنات تھے۔ خیر، جہاں بھی رہو خوش رہو، اس بوڑھے باپ کی دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔"

خط کے آخری الفاظ پڑھتے ہی سلمان کے ہاتھ کانپ اٹھے۔ اس کی نظریں میز پر رکھے اس تحفے پر پڑیں جو اس کے باپ نے برسوں سے اپنی خون پسینے کی کمائی سے جوڑ کر سنبھال رکھا تھا۔ اس کے اندر کا سارا غرور اور تکبر ایک ہی لمحے میں ریزہ ریزہ ہو گیا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اور اپنے باپ کے بے جان پیروں سے لپٹ کر معافی مانگنے لگا، مگر اب وقت بہت آگے نکل چکا تھا اور وہ ہمیشہ کے لیے مٹی کے نیچے سو چکے تھے۔ یہ کہانی ہمیں یہ دردناک سبق دیتی ہے کہ والدین کی قدر ان کی زندگی میں ہی کر لو، کیونکہ ان کے جانے کے بعد دنیا کا سارا سونا بھی ان کی ایک دعا کی قیمت ادا نہیں کر سکتا۔

کہانی کا نام: پرانا لیمپ اور باپ کا انتظار

ہیرو: بابا عنایت (بے لوث محبت اور انتظار کا پیکر)

ولن: غفلت اور دنیاوی مصروفیت

سائیڈ کردار: سلمان (پچھتانے والا بیٹا)

Post a Comment

0 Comments